تاجر برادری نے ایف بی آر اور ایف آئی اے پر سرمایہ کاروں کو بلاوجہ ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ہے، اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حکام کی مداخلت کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کی زیر صدارت تشکیل دی گئی کمیٹی کے اجلاس میں کاروباری برادری اور متعلقہ وزارتوں کے حکام نے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں تاجر نمائندگان نے ایف بی آر، ایف آئی اے اور دیگر صوبائی اداروں کی جانب سے کاروباری افراد پر غیر ضروری مداخلت کرنے کی شکایات کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکام کی یہ مداخلت سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثرات ڈال رہی ہے، جس کے باعث کاروباری ترقی اور اعتماد میں کمی آ رہی ہے۔
مزید برآں، کاروباری برادری نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ملک بھر میں کاروباری سہولت مراکز اور ون ونڈو آپریشنز کی کمی ہے، جس سے کاروباری افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ معاون خصوصی ہارون اختر خان نے اس حوالے سے انتباہ کیا کہ ریاستی اداروں کی غیر ضروری مداخلت سرمایہ کاری اور معیشت پر برے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ تمام ریاستی ادارے کاروباری افراد کو سہولت فراہم کریں، ان کے حقوق کا تحفظ کریں اور ان کے اعتماد کو بڑھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کاروبار کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے شکایات بڑھ رہی ہیں، اور ان مسائل کا حل ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے ہونا چاہیے تاکہ حکام کی صوابدیدی اختیارات کو کم کیا جا سکے۔
اس اجلاس میں ایف بی آر کے افسران نے اپنے اصلاحاتی اقدامات کا ذکر کیا اور بتایا کہ شکایات کے اندراج کے لیے ایک ڈیجیٹل نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف، ایف آئی اے کے حکام کو بھی اپنے کردار اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا۔ تاہم، ہارون اختر خان نے کہا کہ زمینی حقیقت مختلف ہے اور کاروباری افراد کی جانب سے اس طرح کی شکایات معمول بن چکی ہیں۔

