یمن کی فوج کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں مسلسل حملوں کے بعد، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں زور دے کر لکھا ہے کہ ٹرمپ یمن کے دلدل میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔
یمنی مجاہدین کے حملے، جو صہیونی ریاست اور امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، امریکہ کی شدید بمباری کے باوجود جاری ہیں۔ یمن نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک غزہ پر مسلط جنگ کا خاتمہ نہیں ہوتا، یہ حملے بھی جاری رہیں گے۔
حال ہی میں یمنی افواج نے ایک بار پھر صہیونی ریاست کے "نواتیم” ہوائی اڈے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان، یحیی سریع نے کل صبح بیان دیا کہ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف احتجاج کے طور پر یمنی میزائل یونٹ نے جنوبی مقبوضہ فلسطین میں واقع نواتیم ائیربیس پر حملہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کے ذریعے کامیابی سے مکمل کی گئی۔
یحیی سریع نے واضح کیا کہ یمنی افواج اپنی عسکری طاقت کو مزید بڑھائیں گی اور غزہ کے عوام کی حمایت میں کارروائیاں جاری رکھیں گی جب تک کہ جنگ اور محاصرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔
اس حملے کے بعد مقبوضہ علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ یمن نے چند روز قبل بھی نواتیم ایئربیس پر حملے کی خبر دی تھی۔
مایوس امریکہ
حالیہ دنوں مختلف مغربی میڈیا اداروں اور تھنک ٹینکس نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ بحیرہ احمر میں یمنی مجاہدین کے ہاتھوں شکست کھا چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ شکست دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی بحریہ کے لیے ایک بے مثال ناکامی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن نے امریکہ کو بحیرہ احمر میں "کیش اور مات” کر دیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے مصر 1960 کی دہائی میں اور سعودی عرب گزشتہ دہائی میں اپنے ہی بنائے ہوئے دلدل میں پھنسے تھے۔
اب امریکہ بھی ایک ایسی قوم کے سامنے بے بس ہو چکا ہے جو محض ایمان اور ارادے کی طاقت پر بھروسہ کرتی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکومت کی یمن میں جنگی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ جنگ امریکہ کے وسائل کو برباد کر رہی ہے اور بحر الکاہل و چین پر توجہ مرکوز کرنے کی امریکی حکمت عملی کے اہداف سے متصادم ہے۔
مزید یہ کہ اب تک امریکہ یمن میں اپنے طے شدہ مقاصد بھی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ:
ٹرمپ نے اپنی صدارت کے آغاز پر مشرق وسطیٰ کی مہنگی اور طویل جنگوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا، مگر صدارت کے صرف تین ماہ بعد ہی وہ ایک نئی اور پیچیدہ جنگ میں الجھ گئے، جو سابقہ حکومتوں کے لیے بھی دردِ سر بنی ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع ایک ایسی مہم کی قیادت کر رہے ہیں جس کے ذریعے واشنگٹن اب تک نہ بحر ہند، نہ بحیرہ روم اور نہ ہی نہر سویز میں بحری جہازرانی کو معمول پر لا سکا ہے۔
یوں ٹرمپ حکومت ایک مہنگے اور لاحاصل چکر میں پھنس چکی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی اور امریکی افواج کا انخلا مزید مشکل ہو جائے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو پہنچنے والے نقصان اور ان کی یومیہ آپریٹنگ لاگت چھ اعشاریہ پانچ (6.5) ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ امریکی بمبار طیارہ "بی ۲” کی فی گھنٹہ پرواز پر نوے ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔
یمن پر ایک ماہ میں ہونے والی امریکی بمباری کی لاگت دو سو پچاس (250) ملین ڈالر سے زیادہ رہی۔
دوسری طرف، یمنیوں کے حملے روکنے کے لیے داغے گئے ہر امریکی میزائل کی قیمت تقریباً دو (2) ملین ڈالر ہے، جبکہ یمنی میزائل اور ڈرون محض چند ہزار ڈالر میں تیار کیے جاتے ہیں۔
کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے یمن جنگ پر اب تک دو ارب ڈالر خرچ کر دیے ہیں، جو مشرق وسطیٰ کے سب سے غریب ملک کے خلاف ایک بھاری مالی نقصان ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مارچ میں یمنیوں نے چھ امریکی ڈرون مار گرائے اور سینکڑوں فضائی حملے امریکی اہداف پر کیے۔
ان حملوں نے امریکی پائلٹوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں اور دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں کو اپنے بحری راستے تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
اب زیادہ تر بحری جہاز جنوبی افریقہ کے راستے سفر کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس راستے سے عالمی بحری تجارت کا صرف 12 فیصد حصہ گزرتا ہے، لیکن اربوں ڈالر کے اخراجات اور امریکی جانوں کے خطرے کے باوجود حالات کو بدلنے کی کوشش عقل مندی نہیں ہوگی۔
نیویارک ٹائمز نے زور دیا کہ جب تک یمنی افواج کو مغربی ساحل سے بے دخل نہیں کیا جاتا، بحیرہ احمر میں معمول کی بحالی ممکن نہیں۔
اخبار نے لکھا:
"سعودیوں نے گزشتہ سات سالوں میں یمن پر 25 ہزار سے زیادہ فضائی حملے کیے، جن میں 3 لاکھ 77 ہزار یمنی شہید ہوئے، لیکن انصار اللہ نے ساحلی علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے۔”
رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ بھی امریکہ کے دیگر صدور کی طرح اپنی فوجی برتری کا غلط اندازہ لگا بیٹھے ہیں، اور اگر یمنیوں کو فضائی حملوں سے شکست نہ دی جا سکی تو یا تو امریکہ کو پسپائی اختیار کرنی پڑے گی یا کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

