اتوار, فروری 15, 2026
ہومپاکستانپاکستان میں گاڑیوں کی فروخت اور آٹو فنانسنگ میں اضافہ: قرض لیتے...

پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت اور آٹو فنانسنگ میں اضافہ: قرض لیتے وقت ضروری نکات
پ

پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت اور آٹو فنانسنگ میں اضافہ: قرض لیتے وقت ضروری نکاتپاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران بینکوں سے قرض لے کر گاڑیاں خریدنے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے کو آیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی ملک میں مجموعی طور پر گاڑیوں کی فروخت بھی بڑھ گئی ہے۔پاکستان کی کار اسمبلرز کی نمائندہ تنظیم ’پاما‘ کے مطابق، مارچ 2025 میں گاڑیوں کی فروخت میں گزشتہ سال کے مارچ کے مقابلے میں 18 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں (جولائی 2024 سے مارچ 2025) میں گاڑیوں کی فروخت میں گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 46 فیصد اضافہ ہوا۔پاما کے مطابق، اس مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں اب تک پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ گاڑیاں فروخت ہو چکی ہیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ایک لاکھ سے بھی کم تھیں۔دوسری جانب، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینکوں سے قرض لینے کی شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔سٹیٹ بینک کے ڈیٹا کے مطابق مارچ کے مہینے کے اختتام تک صارفین کی جانب سے بینکوں سے 257 ارب روپے کا قرض گاڑیوں کی خریداری کے لیے لیا گیا، جو فروری کے مہینے تک 249 ارب روپے تھا۔پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت اور اس کے لیے بینکوں سے قرض لینے کی شرح میں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب معیشت کے کچھ اشاریوں میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے، جن میں افراط زر (مہنگائی کی شرح) اور شرح سود میں کمی، بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔تاہم دوسری جانب صنعتی ترقی کی شرح میں کمی آئی ہے، اور ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ اور آمدنی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔آٹو سیکٹر اور بینکاری کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بینک سے گاڑی لیز، فنانس یا اجارہ (اسلامی بینکاری) کے ذریعے حاصل کرتے وقت صارفین کو کچھ اہم نکات کا خیال رکھنا ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں ان کے لیے قرض کی واپسی یا مالی مسائل پیدا نہ ہوں۔پاکستان میں گاڑی خریدنے کے لیے بینک سے قرض لینے کا رجحان بڑھنے کی بنیادی وجہ شرح سود میں کمی ہے۔ آٹو سیکٹر کے ماہر مشہود علی خان کے مطابق، جون 2022 میں پاکستان میں شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی، جب کہ مارچ 2025 میں یہ شرح 12 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے آٹو فنانسنگ سستی ہوئی، اور اس کے ساتھ ہی مہنگائی کی شرح میں کمی اور ڈالر کی قیمت مستحکم ہوئی جس سے گاڑیوں کی قیمتیں بھی مستحکم ہو گئیں۔مشہود علی خان نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں چھوٹی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے، اور 60 سے 90 لاکھ روپے کی قیمت میں دستیاب ایس یو ویز کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔پاکستان کے مرکزی بینک کی ہدایت کے مطابق، صارفین گاڑی کی خریداری کے لیے زیادہ سے زیادہ 30 لاکھ روپے تک کا قرض لے سکتے ہیں۔ مشہود نے بتایا کہ مرکزی بینک نے تقریباً ڈھائی سال قبل اس حد کو متعارف کرایا تھا تاکہ کنزیومر فنانسنگ کو کنٹرول کیا جا سکے، خاص طور پر مہنگائی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ تاہم، گاڑیوں کی صنعت سے وابستہ لوگ اس فنانسنگ کیپ کو بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ اس شعبے میں مزید فنانسنگ کی گنجائش پیدا ہو سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین