گوجرانوالہ:
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان پر حملے کے مقدمے میں مرکزی ملزم نوید کو تحریک انصاف کے کارکن معظم کے قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت الگ الگ عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔
ڈان نیوز کے مطابق، گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیرآباد میں پیش آئے حملے کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر مرکزی ملزم نوید کو دو مختلف دفعات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم نوید کو پی ٹی آئی کارکن معظم کے قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں الگ الگ عمر قید کا حکم دیا جبکہ چار دیگر زخمیوں کے مقدمے میں اسے تین سے پانچ سال قید کی اضافی سزائیں بھی دی گئیں۔
عدالت نے شریک ملزمان طیب جہانگیر بٹ اور وقاص کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔
قبل ازیں، فروری 2023 میں گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اسی مقدمے میں نامزد ایک اور ملزم احسن کی ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا، جبکہ ملزم وقاص کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔
یہ ملزمان عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث تھے، جن میں احسن پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ضلعی سیکریٹری اطلاعات کا بھائی ہے۔
کیس کا پس منظر
نومبر 2022 میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران وزیرآباد میں ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے سابق وزیراعظم عمران خان، سینیٹر فیصل جاوید اور دیگر کئی رہنما زخمی جبکہ ایک کارکن معظم جاں بحق ہوگیا تھا۔
واقعے کے بعد عمران خان نے وفاقی وزیرداخلہ سمیت اعلیٰ حکام پر حملے کے الزامات عائد کیے تھے، جس پر مقدمہ درج کرنے میں تنازع پیدا ہوا۔ تاہم بعدازاں پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
حملے کی ایف آئی آر 7 نومبر کو درج کی گئی تھی، جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت 3 نومبر کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔

