ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ بندر عباس میں خوفناک دھماکہ: 25 ہلاک، 750 سے زائد زخمیایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ بندر عباس میں واقع شہید رجائی پورٹ پر کیمیکل مواد کے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور 750 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔تسنیم نیوز ایجنسی نے صوبہ ہرمزگان کے سربراہِ عدلیہ مجتبی قہرمانی کے حوالے سے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں میں سے کئی کو دیگر شہروں، خصوصاً شیراز منتقل کیا گیا ہے۔اتوار کے روز شہید رجائی بندرگاہ پر موٹے سیاہ دھوئیں کے بادل چھائے رہے اور امدادی ٹیمیں رات بھر آگ بجھانے اور زخمیوں کی مدد میں مصروف رہیں۔یہ دھماکہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے، تاہم ابھی تک دونوں واقعات کے درمیان کسی تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ایران: شہید رجائی بندرگاہ پر دھماکہ، کیمیکل اسٹوریج کو ذمہ دار قرار دے دیا گیاایران کے بحران مینجمنٹ ادارے کے ترجمان حسین ظفری نے شہید رجائی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کی ابتدائی وجہ کیمیکل کنٹینرز کی ناقص اسٹوریج کو قرار دیا ہے۔انہوں نے ایرانی خبر رساں ادارے ایلنا (ILNA) سے بات کرتے ہوئے کہا:> "دھماکے کی وجہ کنٹینرز کے اندر موجود کیمیکل تھے۔”حسین ظفری کے مطابق:> "بحران مینجمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل پہلے بھی بندرگاہ کے دوروں کے دوران متعلقہ حکام کو خطرات سے خبردار کر چکے تھے اور ممکنہ حادثے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔”تاہم، ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ:> "اگرچہ بظاہر کیمیکلز دھماکے کی ممکنہ وجہ معلوم ہوتے ہیں، مگر ابھی حتمی طور پر اصل وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔”ایران: شہید رجائی بندرگاہ پر خوفناک دھماکہ، صدر مسعود پزشکین نے تحقیقات کا حکم دے دیاایرانی صدر مسعود پزشکین نے ملک کے سب سے بڑے تجارتی مرکز شہید رجائی بندرگاہ پر دھماکے کے بعد فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اپنے وزیر داخلہ کو موقع پر بھیجا ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ آگ بجھانے اور اسے مزید علاقوں تک پھیلنے سے روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔آگ مزید بھڑک اٹھی:دھماکے کے تقریباً دس گھنٹے بعد، ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ آگ میں شدت آ گئی ہے۔ دھوئیں کے بادلوں کے باعث قریبی شہر بندر عباس (جو کہ بندرگاہ سے 23 کلومیٹر دور ہے) میں اسکول اور دفاتر اتوار کے روز بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال پر توجہ دی جا سکے۔تیل کی تنصیبات محفوظ:نیشنل ایرانی آئل پروڈکٹس ریفائننگ اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی نے بیان میں کہا کہ:> "شہید رجائی بندرگاہ پر دھماکہ اور آگ ہماری ریفائنریوں، ایندھن کے ٹینکوں، ترسیلی مراکز اور تیل پائپ لائنز سے متعلق نہیں ہے۔”دھماکے کی تفصیلات:ایسماعیل ملک زادہ (ہرمزگان پورٹس اور میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کے عہدیدار) کے مطابق، دھماکہ بندرگاہ کے ڈاک کے قریب ہوا۔ایران کی کسٹمز اتھارٹی نے کہا کہ دھماکہ سینا کنٹینر یارڈ میں ہوا جو بندرگاہوں اور میری ٹائم آرگنائزیشن سے منسلک ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دھوئیں کے بادل اور آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے۔ کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد افراد زخمیوں کی مدد کرتے اور املاک کا معائنہ کرتے دکھائی دیے۔پس منظر:شہید رجائی بندرگاہ نہ صرف کنٹینر ٹریفک کا مرکز ہے بلکہ یہاں تیل اور پیٹروکیمیکل تنصیبات بھی موجود ہیں۔مئی 2020 میں، اسرائیل پر اسی بندرگاہ پر ایک بڑے سائبر حملے کا الزام لگایا گیا تھا، جس سے کئی دنوں تک بندرگاہ کا کمپیوٹر سسٹم مفلوج ہو گیا تھا۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نئے ایٹمی معاہدے کے لیے بات چیت جاری ہے۔عالمی تشویش:ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال کنٹرول میں نہ آئی تو نہ صرف بندرگاہ بلکہ قریبی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو سکتا ہے۔شہید رجائی بندرگاہ:شہید رجائی بندرگاہ ایران کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ ہے، جو زیادہ تر کنٹینر ٹریفک سنبھالتی ہے۔ یہاں تیل کے ٹینک اور دیگر پیٹروکیمیکل تنصیبات بھی موجود ہیں۔ماضی کا واقعہ (مئی 2020):مئی 2020 میں اسی بندرگاہ پر ایک بڑا سائبر حملہ ہوا تھا جس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں بندرگاہ کا کمپیوٹر نظام مفلوج ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے کئی دنوں تک نقل و حمل میں شدید خلل پیدا ہوا تھا۔موجودہ حساس صورتحال:اب یہ دھماکہ ایک انتہائی حساس وقت پر ہوا ہے، جب ایرانی حکام اور امریکی حکام کے درمیان ایک ممکنہ نئے ایٹمی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ بندر عباس میں خوفناک دھماکہ: 25 ہلاک، 750 سے زائد زخمیایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ بندر عباس میں واقع شہید رجائی پورٹ پر کیمیکل مواد کے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور 750 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔تسنیم نیوز ایجنسی نے صوبہ ہرمزگان کے سربراہِ عدلیہ مجتبی قہرمانی کے حوالے سے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں میں سے کئی کو دیگر شہروں، خصوصاً شیراز منتقل کیا گیا ہے۔اتوار کے روز شہید رجائی بندرگاہ پر موٹے سیاہ دھوئیں کے بادل چھائے رہے اور امدادی ٹیمیں رات بھر آگ بجھانے اور زخمیوں کی مدد میں مصروف رہیں۔یہ دھماکہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے، تاہم ابھی تک دونوں واقعات کے درمیان کسی تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

