پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایرانی پیشکش پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایران نے جنوبی ایشیا کے حریف ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی کیلئے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس اراغچی نے ہفتے کے روز اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا:
"ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔”
انہوں نے ایران کے دونوں ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران اس حساس دور میں فریقین کے درمیان مفاہمت کے فروغ میں مدد دے سکتا ہے۔
تاحال پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایرانی پیشکش پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب اراغچی نے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اپنے پاکستانی اور بھارتی ہم منصبوں سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک رابطے کیے۔
ان رابطوں کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔
پہلگام، جو کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا ایک مشہور سیاحتی مقام ہے، میں پیش آنے والے واقعے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 26 سیاح ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
اس حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر ملوث ہونے کا الزام عائد کیا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کر دیا، اور ساتھ ہی بھارت نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ آبی معاہدہ، سندھ طاس معاہدہ، معطل کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔

