ایف آئی آر میں غیر ملکی پشت پناہی کا ذکر، حملے کے صرف 10 منٹ بعد اندراج، بھارتی کہانی کے پہلے سے طے شدہ ہونے کا عندیہ
ایک ایف آئی آر، جو بھارتی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی، نے پہلگام میں حالیہ ہلاکت خیز واقعے سے متعلق نئی دہلی کے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ سیکیورٹی حکام نے اسے ممکنہ "فالس فلیگ” آپریشن قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، حملہ ختم ہونے کے صرف 10 منٹ بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی — ایک غیرمعمولی جلد بازی جس نے واقعے کے پہلے سے منصوبہ بندی کیے جانے کے شکوک کو جنم دیا ہے۔
پہلگام پولیس اسٹیشن جائے وقوعہ سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ایف آئی آر، جو دوپہر 2:30 بجے درج کی گئی، کے مطابق حملہ 1:50 سے 2:20 بجے کے درمیان پیش آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹائم لائن خود واقعے کی پیشگی معلومات کی نشاندہی کرتی ہے۔
ایف آئی آر میں ملزمان کو "نامعلوم سرحد پار دہشت گرد” قرار دیا گیا ہے، اور اس میں "غیر ملکی سرپرستوں کے ایما پر” جیسے الفاظ نمایاں طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی زبان بیانیے کے پہلے سے طے شدہ ہونے کا تاثر دیتی ہے۔
بھارتی حکام اور میڈیا نے اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ کے طور پر پیش کیا، تاہم ایف آئی آر میں اسے "بلا امتیاز فائرنگ” قرار دیا گیا ہے، جس سے مزید تضادات سامنے آئے ہیں۔
ایف آئی آر کے وقت اور متن نے پاکستانی حکام کو یہ کہنے پر مجبور کیا ہے کہ مودی حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے پہلگام حملے کا ڈرامہ رچایا۔
آج پاکستان کی سینیٹ نے بھارت کے ان الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی، جس میں کہا گیا کہ پہلگام حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں بے بنیاد اور سیاسی مقاصد کے تحت کی جا رہی ہیں۔
یہ قرارداد نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پیش کی، جس میں بھارتی کسی بھی جارحیت یا آبی دہشت گردی کے خلاف فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
قرارداد میں فروری 2019 میں بھارت کے خلاف پاکستان کے بھرپور ردعمل کو اجاگر کرتے ہوئے امن کے عزم کے ساتھ قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
قرارداد میں دہشت گردی کی ہر شکل اور صورت کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کو پہلگام حملے سے جوڑنے کی تمام بے بنیاد کوششوں کو سختی سے مسترد کیا گیا۔
قرارداد میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے غیر قانونی اقدام کی بھی مذمت کی گئی، اور اسے معاہدے کی صریح خلاف ورزی اور جنگی اقدام کے مترادف قرار دیا گیا۔
مزید یہ کہ قرارداد میں بھارت کو دیگر ممالک بشمول پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

