اسلام آباد:
پاکستان نے شہریت سے متعلق ترمیمی بل 2024 کے تحت 22 ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کے نئے انتظامات کو باضابطہ شکل دے دی ہے، جس کے بعد پاکستانی شہری اب ان ممالک کی شہریت حاصل کرنے کے باوجود اپنی پاکستانی شہریت برقرار رکھ سکیں گے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، جو وزارت داخلہ کا ذیلی ادارہ ہے، نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ ممالک میں سے کسی کی شہریت حاصل کرنے والے پاکستانیوں کو اب اپنی پاکستانی شہریت ترک کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یہ اقدام سابقہ پالیسی سے ایک بڑا انحراف ہے جس کے تحت صرف چند مخصوص ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے موجود تھے۔
یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہو چکا ہے اور پارلیمنٹ کی حتمی منظوری کے بعد مکمل طور پر نافذ ہونے کا امکان ہے۔
وزارت قانون نے حالیہ بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ کئی ممالک نئی شہریت دینے سے قبل پرانی شہریت چھوڑنے کا ثبوت طلب کرتے تھے، جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ اس ترمیم کا مقصد ان مسائل کا حل اور متاثرہ افراد کو ان کا شہری حق بحال کرنا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس اینڈ امیگریشن، مصطفیٰ جمال قاضی نے تصدیق کی کہ یورپ، مشرق وسطیٰ، شمالی امریکہ اور اوشیانا کے متعدد ممالک کے ساتھ باضابطہ معاہدے طے پا چکے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ان ممالک کی شہریت حاصل کرنے والے پاکستانی شہریوں کو اب اپنی پاکستانی شہریت ترک کرنے کی قانونی مجبوری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
معاہدے میں شامل ممالک میں برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، اٹلی، بیلجیئم، آئس لینڈ، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، مصر، اردن، شام، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، سویڈن، آئرلینڈ، بحرین، ڈنمارک، جرمنی، ناروے اور لکسمبرگ شامل ہیں۔
برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے ساتھ پہلے ہی دوہری شہریت کے معاہدے موجود تھے، جب کہ دیگر ممالک پہلی بار اس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔
پاکستان نے ترکی کے ساتھ بھی دوہری شہریت کے معاہدے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ترکی کی تجویز پر وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ اس حوالے سے مسودے کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ دونوں ممالک کے شہریوں کو باہمی دوہری شہریت کے حقوق دیے جا سکیں۔

