ایرانی وزیر تیل محسن پاکنژاد کا کہنا ہے کہ تہران اور ماسکو نے ایران میں ایک نئے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے لیے روس کی جانب سے ایک مالیاتی کریڈٹ لائن مختص کی گئی ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کے تحت تعاون کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔انہوں نے ماسکو میں ایران اور روس کے مابین 18ویں مشترکہ اقتصادی تعاون کمیشن کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:”ایران اور روس پرامن ایٹمی توانائی کے استعمال، نئے ایٹمی توانائی کے منصوبوں کی تعمیر، اور بوشہر پاور پلانٹ کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی تکمیل میں تعاون جاری رکھیں گے، جو روسی کریڈٹ لائن کے ذریعے مکمل ہوں گے۔”وزیر نے یہ بھی اعلان کیا کہ دونوں فریقین نے تیل و گیس کے شعبوں خصوصاً اپ اسٹریم سیکٹرز میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔انہوں نے کہا:”تہران اور ماسکو روسی کمپنی گازپروم کے ساتھ تعاون کے مفاہمتی یادداشتوں کو جلد از جلد عملی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔”انہوں نے پیٹروکیمیکل صنعت میں تعاون، پٹرولیم مصنوعات کے تبادلے (swap)، اور روسی کمپنیوں کے ساتھ موجودہ معاہدوں کے تحت تیل کے میدانوں کی ترقی میں تعمیری روابط پر زور دیا۔روس سے گیس کی درآمد اور ایران کے ایک علاقائی گیس حب بننے کے امکانات پر بات کرتے ہوئے وزیر تیل نے کہا:”دونوں فریقین کی دلچسپی کا ایک اہم شعبہ روس سے گیس کی درآمد ہے (پہلا مرحلہ)، اور دوسرے مرحلے میں دیگر ممالک کو گیس کی تجارت یا سوآپ کے ذریعے منتقلی شامل ہے۔”انہوں نے مزید بتایا کہ:”اس سلسلے میں وسیع مذاکرات ہو چکے ہیں، صرف ایک یا دو مسائل باقی ہیں، جن کی تفصیلات گیس درآمد کی مقدار کے حتمی تعین کے بعد جاری کی جائیں گی۔”پاکنژاد نے ایرانی و روسی وفود کے درمیان ہونے والی خوشگوار اور مفید گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ”18ویں کمیشن کا اجلاس دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے تک لے جانے میں معاون ثابت ہوگا، جہاں موجودہ چیلنجز اور ساختی رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔”انہوں نے کہا:”ایران اور روس کی شنگھائی تعاون تنظیم، برکس، گیس برآمد کنندگان فورم، اور اوپیک پلس میں رکنیت کے ذریعے کثیرالجہتی تعاون سے مشترکہ مفادات، امن، استحکام اور عالمی سلامتی کو فروغ ملا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ یہ تعاون مزید گہرا ہوگا۔”ایرانی وزیر تیل نے زور دیا کہ ایران اور روس کے درمیان تعلقات بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا:”عالمی سفارت کاری کے میدان میں تہران اور ماسکو کے تعلقات قابلِ توجہ ہیں۔”روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی RIA نے پیر کے روز رپورٹ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کی توثیق پر دستخط کر دیے ہیں، جو رواں سال جنوری میں ایران کے ساتھ طے پایا تھا۔یہ بل رواں ماہ کے آغاز میں روس کی اسٹیٹ ڈوما (پارلیمنٹ) سے منظور کیا گیا تھا۔یہ معاہدہ، جس پر صدر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکین نے دستخط کیے، بیس سالہ مدت پر محیط ہے، اور اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعاون کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرنا ہے۔یہ تعاون دفاع، توانائی، صنعت، زراعت، مالیات، ٹرانسپورٹ، سائنس، ثقافت اور ٹیکنالوجی جیسے متعدد شعبوں پر محیط ہوگا۔

