یمن کی انصار اللہ مزاحمتی تحریک کے رہنما نے کہا ہے کہ یمنی مزاحمت کی جانب سے غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں کی جانے والی جوابی کارروائیوں نے اسرائیلی اور امریکی بحری جہازوں کی یمن کے پانیوں کے قریب نقل و حرکت کو مؤثر طریقے سے روک دیا ہے۔عبدالملک الحوثی نے جمعرات کی شب ایک ٹی وی خطاب میں کہا:”باب المندب اور بحیرہ عرب اسرائیلی اور امریکی جہازوں کے لیے بند ہیں، یہ ایک حقیقت ہے۔”انہوں نے بتایا کہ پچھلے ہفتے کے دوران یمنیوں نے امریکی جہازوں اور بحری بیڑوں کو نشانہ بنایا اور کل نو کارروائیاں کیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ فلسطین میں جاری "امریکی-اسرائیلی نسل کشی” کے خلاف عوامی مظاہرے اور فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔الحوثی نے امریکہ پر یمن کے خلاف جارحیت بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ امریکہ نے پچھلے ہفتے یمن کے شہری انفراسٹرکچر پر 260 حملے کیے۔انہوں نے کہا:”امریکہ اور اسرائیلی حکومت کو اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ یمن مخالف مہم میں ناکام ہو چکے ہیں۔”الحوثی نے غزہ پر اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کی، اور کہا کہ اسرائیل نے "ہسپتالوں، طبی مراکز اور طبی عملے” پر حملے کیے، جنہیں انہوں نے "وحشیانہ جرائم” قرار دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل غزہ کے عوام کے خلاف بھوک اور محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔”اسرائیلی حکومت محصور غزہ میں خوراک اور ادویات کی ترسیل کو روکتی ہے اور امدادی کوششوں میں رکاوٹ ڈالتی ہے،” انہوں نے کہا۔غزہ پر جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث وہاں 3,500 سے زائد بچے بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔غزہ میں اسرائیلی فوج کے نسل کش اقدامات پر بات کرتے ہوئے الحوثی نے کہا:”قابض افواج غزہ میں مزاحمتی جنگجوؤں سے ٹکرانے سے خوف زدہ ہیں اور وہ محصور علاقے میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔”انہوں نے غزہ میں بے گناہ شہریوں، بے گھر افراد کے قتل اور طبی سہولیات کی تباہی پر شدید تنقید کی، اور کہا کہ یہ "کامیابیاں نہیں بلکہ جرائم” ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی افواج اب بھی اپنی نام نہاد جنگی مقاصد حاصل کرنے میں "ناکام” ہیں۔امریکی-اسرائیلی نسل کش جنگ کے نتیجے میں غزہ میں شہداء کی تعداد 51,266 ہو چکی ہے، جبکہ تقریباً 1,17,000 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں، اور اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں۔الحوثی نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ سے جبراً بے دخل کرنے کے منصوبے کی بھی مذمت کی، اور کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے "دہشت گردانہ اقدامات” اور جارحیت کا مقصد فلسطینی مکانات پر قبضہ اور غیرقانونی بستیوں کی توسیع ہے۔انہوں نے کہا:”اسرائیلی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں پناہ گزین کیمپوں کو تباہ کرنا چاہتی ہے تاکہ اپنی زمین ہتھیانے کی پالیسی کو آگے بڑھا سکے۔”الحوثی نے بعض عرب حکومتوں اور میڈیا اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جو اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہو کر یا خاموش رہ کر تل ابیب کی نسل کشی میں شریک ہیں۔انہوں نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں۔”مزید فلسطینیوں کو آگے آ کر فلسطینی کاز کے لیے متحد ہونا چاہیے،” انہوں نے اپیل کی۔اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں انہوں نے لبنان کی حزب اللہ کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی اسرائیل کی جانب سے بار بار خلاف ورزی پر بھی سخت تنقید کی۔انہوں نے کہا:”اسرائیلی حکومت جنوبی لبنان کے دیہات کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے اور جنگ بندی معاہدے اور لبنانی خودمختاری کی بار بار خلاف ورزی کر رہی ہے۔”انہوں نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حکومت پر جنگ بندی کے نفاذ کے لیے زیادہ دباؤ ڈالے۔شام میں اسرائیلی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے الحوثی نے کہا کہ شامی خودمختاری کی اسرائیلی خلاف ورزیاں امریکی حمایت سے انجام دی جا رہی ہیں، جو "صہیونی منصوبے” کا حصہ ہیں، جس کا مقصد شامی سرزمین پر قبضہ اور اس کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنا ہے۔آخر میں، انہوں نے بعض عرب حکومتوں کی جانب سے ایران پر تنقید کی مذمت کی، جو فلسطینی کاز کی حمایت کر رہا ہے، اور کہا کہ”ایسی پوزیشنز اسرائیلی جارحیت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔”

