اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی رپورٹ: یمن نے چھ ہفتوں میں سات ریپر ڈرون مار گرائے،...

امریکی رپورٹ: یمن نے چھ ہفتوں میں سات ریپر ڈرون مار گرائے، دو سو ملین ڈالر سے زائد کا نقصان
ا

یمنی افواج نے چھ ہفتوں سے بھی کم مدت میں امریکہ کے سات ریپر ڈرون مار گرائے ہیں، جس سے امریکہ کو دو سو ملین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان ہوا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یمن کے خلاف اپنی جارحیت میں شدت پیدا کر دی ہے۔

امریکی دفاعی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے تین ڈرون گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گرائے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یمنی افواج کی بغیر پائلٹ طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ یہ ڈرون حملوں میں مصروف تھے یا جاسوسی کے مشن پر پرواز کر رہے تھے۔ ان حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔

اگرچہ ان واقعات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابتدائی اندازے کے مطابق "دشمن کی فائرنگ” کو ان ڈرونز کے گرنے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے۔

یہ جدید ترین ریپر ڈرونز جنرل اٹومکس کمپنی تیار کرتی ہے، جن کی فی یونٹ قیمت تقریباً 30 ملین ڈالر ہے۔ یہ ڈرون عام طور پر 40,000 فٹ (12,100 میٹر) کی بلندی پر پرواز کرتے ہیں۔

ایک دفاعی اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ یمن پر امریکی حملوں میں اضافے سے امریکی طیاروں کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتِ حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ غزہ کی حمایت میں یمنی کارروائیوں کے ردِ عمل میں یمن کے خلاف "فیصلہ کن اور طاقتور فوجی کارروائی” کا حکم دیا تھا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جب سے اسرائیل نے غزہ میں اپنی نسل کشی پر مبنی جنگ کا آغاز کیا ہے، یمنی افواج نے غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی اہداف پر حملے، اور اسرائیلی بندرگاہوں کی جانب جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

امریکہ نے اسرائیل کی حمایت میں دسمبر 2023 میں بحیرہ احمر میں ایک بحری ٹاسک فورس تشکیل دی تھی تاکہ مقبوضہ علاقوں کی جانب جانے والے جہازوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

اس کے جواب میں یمنی افواج نے امریکہ اور اسرائیل کے حساس اور اسٹریٹجک اہداف، بشمول امریکی جنگی جہازوں اور طیارہ بردار بحری بیڑوں، پر حملوں میں اضافہ کر دیا۔

یمنی افواج نے 19 جنوری کو غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اپنی جوابی کارروائیاں روک دی تھیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد یہ حملے دوبارہ شروع کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، امریکی حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر امریکی سینیٹرز نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کے روز ڈیموکریٹ سینیٹرز — کرس وان ہولن (میری لینڈ)، الزبتھ وارن (میساچوسٹس) اور ٹِم کین (ورجینیا) — نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ایک خط لکھا جس میں پوچھا گیا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ عام شہریوں کے تحفظ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری اقدامات ترک کر رہی ہے؟

یہ خط ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے یمن کے راس عیسیٰ ایندھن بندرگاہ پر امریکی حملے میں 70 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے تھے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین