ریاض — ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکہ سعودی عرب کو 100 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے چھ باخبر ذرائع کے حوالے سے جمعرات کو بتایا کہ اس مجوزہ معاہدے کا باضابطہ اعلان ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ ماہ سعودی عرب کے دورے کے دوران کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سابق امریکی انتظامیہ سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں ناکام رہی تھی، جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ سعودی تعلقات کی بحالی کے وسیع تر منصوبے کا حصہ تھا۔
جو بائیڈن انتظامیہ نے سعودی عرب کو جدید امریکی اسلحہ تک رسائی کی پیش کش کی تھی، بشرطیکہ وہ چینی ہتھیاروں کی خریداری سے گریز کرے اور بیجنگ کی سرمایہ کاری پر قدغن لگائے۔
یاد رہے کہ اپنے پہلے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کو امریکی معیشت اور روزگار کے لیے سودمند قرار دیا تھا۔
مئی 2017 میں اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران، ٹرمپ نے ریاض میں سعودی عرب کے ساتھ 110 ارب ڈالر کے ایک بڑے ہتھیاروں کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے "اربوں ڈالر اور لاکھوں روزگار” پیدا ہوں گے۔
اس معاہدے میں لڑاکا طیارے، جنگی بحری جہاز، اور دیگر ہتھیار شامل تھے، جب کہ اس میں وہ جدید ہتھیار بھی شامل تھے جن کی فروخت سابق صدر براک اوباما نے یمن جنگ کے سبب روک دی تھی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، اس پیکیج میں 6 ارب ڈالر کا معاہدہ شامل ہے جس کے تحت 150 لاک ہیڈ مارٹن بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سعودی عرب میں اسمبل کیے جائیں گے۔
ایک نامعلوم اہلکار کے مطابق، معاہدے میں 1 ارب ڈالر مالیت کا تھاد (THAAD) میزائل سسٹم اور 11.5 ارب ڈالر مالیت کے چار کثیرالمقاصد جنگی بحری جہازوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کا ممکنہ نیا معاہدہ لاک ہیڈ مارٹن کے ایف-35 طیاروں پر بھی مشتمل ہو سکتا ہے، جن میں سعودی عرب طویل عرصے سے دلچسپی رکھتا ہے۔
امریکہ اسرائیل کو خطے میں اپنے عرب ہمسایوں پر عسکری برتری دینے کے لیے "کوالیٹیٹو ملٹری ایج” (QME) کے نام سے جدید ترین امریکی ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ اسرائیل گزشتہ نو برس سے ایف-35 طیاروں کا مالک ہے اور اس نے ان کے متعدد اسکواڈرنز تشکیل دے رکھے ہیں۔

