اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیکشمیر حملہ: کیا بھارت کی آبی معاہدے کی معطلی پاکستان کے لیے...

کشمیر حملہ: کیا بھارت کی آبی معاہدے کی معطلی پاکستان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے؟
ک

پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو "اعلانِ جنگ” قرار دے دیا ہے، یہ فیصلہ وادیِ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے دہشتگرد حملے کے بعد سامنے آیا جس میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے۔

منگل کے حملے کے بعد سے دونوں ممالک ایک بار پھر سخت کشیدگی کا شکار ہیں۔ بدھ کے روز بھارت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو کم تر کرتے ہوئے کئی اقدامات کا اعلان کیا، جن میں سب سے اہم سندھ طاس معاہدے سے بھارت کی عارضی علیحدگی کا اعلان تھا، جو پاکستان کے لیے پانی کی فراہمی کے حوالے سے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت نے واہگہ بارڈر بند کر دیا ہے اور ملک میں موجود کچھ پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کے لیے مہلت دے دی ہے۔

جمعرات کو پاکستان نے جوابی اقدامات کرتے ہوئے نہ صرف بھارت کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کو معطل کرنے کی دھمکی دی بلکہ 1972 کے شملہ معاہدے پر بھی نظرثانی کا عندیہ دیا، جو دونوں ممالک کے درمیان امن کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان خاص طور پر سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر سخت برہم ہے اور اسے "اعلانِ جنگ” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی "قومی طاقت کے مکمل دائرہ کار” کے تحت بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

یہ معاہدہ 1960 میں اس وقت طے پایا جب بھارت اور پاکستان برطانوی راج سے آزادی کے بعد دو خودمختار ریاستیں بنے۔ بھارت بالائی (اپر ریپیئرین) جبکہ پاکستان زیریں (لوئر ریپیئرین) ریاست ہے، جس کا مطلب ہے کہ پانی کے بہاؤ پر بھارت کو کنٹرول حاصل ہے۔

معاہدے کے مطابق، بھارت کو تین مشرقی دریاؤں – راوی، بیاس اور ستلج – کا پانی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں – سندھ، جہلم اور چناب – کا پانی دیا گیا ہے۔

بھارت کو مغربی دریاؤں سے بجلی پیدا کرنے اور محدود زراعت کی اجازت ہے، مگر وہ ان دریاؤں کے بہاؤ کو روکنے یا پانی کا رخ موڑنے والا کوئی ڈھانچہ تعمیر نہیں کر سکتا۔

بھارت کے اس اقدام کے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں؟

اگرچہ بھارت نے معاہدے کو معطل کیا ہے، لیکن وہ فوری طور پر پانی کا بہاؤ روکنے کے قابل نہیں، کیونکہ اس کے ذخائر محدود صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، مئی سے ستمبر تک برف پگھلنے کے باعث دریاؤں میں پانی کی روانی عروج پر ہوتی ہے، اور بھارت کے پاس فی الحال ایسا کوئی ڈھانچہ نہیں جو ان پانیوں کو بڑے پیمانے پر روک سکے۔

تاہم، اگر بھارت مستقبل میں بہاؤ کو روکنے کی کوشش کرے تو پاکستان کو پانی کی کمی خاص طور پر کم بہاؤ والے موسم میں شدت سے محسوس ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے، جو اس کے جی ڈی پی کا 24 فیصد اور روزگار کا 37.4 فیصد مہیا کرتی ہے۔

کیا بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر سکتا ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق، بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے ممتاز قانون دان، احمر بلال صوفی نے کہا کہ معاہدے میں معطلی کی کوئی شق موجود نہیں۔ یہ نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی آبی قوانین کی بھی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت اس اقدام کے ذریعے دباؤ بڑھا کر معاہدے کی نئی شرائط پر نظرثانی چاہتا ہے۔ بھارت پہلے بھی 2023 اور 2024 میں معاہدے پر نظرثانی کا مطالبہ کر چکا ہے، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا تھا۔

دیگر بھارتی اقدامات

بھارت نے مزید اقدامات کا اعلان کیا جن میں واہگہ بارڈر کی بندش، سارک ویزا اسکیم کی معطلی، پاکستانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم، اور دونوں ممالک کے ہائی کمیشنز کے عملے میں کمی شامل ہے۔

پاکستان کا ردعمل

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلایا، جس میں بھارتی اقدامات کو "سیاسی مقاصد پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ، اور قانونی جواز سے عاری” قرار دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی ناقابل قبول ہے اور اسے "اعلانِ جنگ” تصور کیا جائے گا۔ پاکستان نے بھی سارک ویزا اسکیم معطل کی، واہگہ بارڈر بند کیا، بھارتی فضائی کمپنیوں کے لیے فضائی حدود بند کی، اور بھارت کے ساتھ تمام تجارت معطل کر دی۔

کیا یہ کشیدگی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ ہے؟

اگرچہ بھارت ماضی میں بھی سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی دھمکیاں دے چکا ہے، لیکن اس بار اس پر عمل درآمد کیا گیا ہے، جو ایک بڑی پیش رفت ہے۔

2016 اور 2019 میں کشمیر میں حملوں کے بعد بھارت نے سخت بیانات دیے تھے، مگر معاہدہ برقرار رہا۔ اس بار کا اقدام نہ صرف تاریخی بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین