اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیییل یونیورسٹی نے بن گویر کے دورے پر احتجاج کرنے والے فلسطین...

ییل یونیورسٹی نے بن گویر کے دورے پر احتجاج کرنے والے فلسطین حامی گروپ پر پابندی لگا دی
ی

ییل یونیورسٹی نے اسرائیل کے متنازع قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر کے دورے کے خلاف احتجاج کرنے پر pro-Palestine طلبہ تنظیم Yalies4Palestine پر پابندی عائد کر دی ہے، جس پر انسانی حقوق کے کارکنان اور ماہرین تعلیم نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اخلاقی و قانونی طور پر ناقابلِ جواز قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر، جو فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور غزہ پر تباہ کن بمباری کے کھلے عام حامی سمجھے جاتے ہیں، بدھ کے روز ییل کے قریبی علاقے میں واقع ایک نجی یہودی سوسائٹی شابتائی میں خطاب کے لیے پہنچے۔ ان کی موجودگی پر طلبہ و سماجی کارکنوں نے شدید احتجاج کیا، جسے یونیورسٹی انتظامیہ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا نشانہ بنایا۔

احتجاج، ردعمل اور تنظیم پر پابندی

یونیورسٹی کی حدود میں منگل کی شب طلبہ نے علامتی طور پر خیمے نصب کر کے احتجاج کا آغاز کیا۔ اگرچہ مظاہرہ مختصر دورانیے کا تھا، لیکن اس کی نوعیت گذشتہ برس کی اُن احتجاجی تحریکوں سے مشابہ تھی، جنہوں نے امریکہ کی مختلف جامعات میں انتظامی پالیسیاں تبدیل کروائیں۔

ییل انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کیمپس میں قائم کیا گیا عارضی کیمپ یونیورسٹی کی آؤٹ ڈور پالیسیز کی خلاف ورزی ہے، اور ایسے طلبہ جو ماضی میں بھی نظم و ضبط کے اقدامات کی زد میں آ چکے ہیں، ان کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ مظاہرے کے دوران مبینہ یہود مخالف طرزِ عمل کی شکایات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم اس حوالے سے کسی مخصوص واقعے یا ثبوت کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

یونیورسٹی نے Yalies4Palestine کی باضابطہ حیثیت منسوخ کرتے ہوئے اس پر احتجاج کی کال دینے اور سوشل میڈیا پر اس کی ذمہ داری قبول کرنے کا الزام عائد کیا۔ تاہم مظاہرین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مظاہرہ کسی بھی تنظیم کی سرپرستی میں نہیں کیا گیا تھا۔

بین گویر کی موجودگی اور تضادات پر سوالات

بدھ کی شب جب بین گویر شابتائی میں خطاب کے لیے پہنچے، تو ان کا سامنا مظاہرین کے شدید نعروں سے ہوا۔ ایک موقع پر انہیں “فتح کا اشارہ” کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس پر مجمع نے “شرم کرو” جیسے نعرے بلند کیے۔ ان کے دفتر کے مطابق ایک مظاہرہ کرنے والے نے ان پر پانی کی بوتل پھینکی، تاہم وہ محفوظ رہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بین گویر کو 2008 میں اسرائیلی عدالت نے نسل پرستی کو ہوا دینے اور ایک دہشت گرد تنظیم (کاخ) کی حمایت پر مجرم قرار دیا تھا۔ وہ فلسطینی علاقوں کے مکمل انضمام اور نسلی صفائی جیسے بیانات دے چکے ہیں، جب کہ حال ہی میں انہوں نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں خوراک و امداد کے مراکز پر بمباری کی اپیل کی تھی۔

سیاسی دباؤ اور دوہرے معیار

ییل کی یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ pro-Palestine مظاہرین پر کریک ڈاؤن تیز کر چکی ہے۔ غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے اور جامعات کی وفاقی فنڈنگ روکنے جیسے اقدامات کو “یہود مخالف” الزامات کی آڑ میں جائز قرار دیا جا رہا ہے۔

جامعات میں احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں یہودی طلبہ بھی شریک ہوتے ہیں، اور شاذ و نادر واقعات کو بنیاد بنا کر پورے احتجاج کو یہود مخالف قرار دینا بدنیتی پر مبنی ہے۔

ییل کے مظاہرین نے کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے وفاقی حکومت کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لیے سخت مؤقف اپنایا۔ ان کا کہنا تھا:
"طلبہ کو نشانہ بنانا اور کمیونٹی کو تنہا کرنا نہ ہارورڈ کو بچا سکا، نہ کولمبیا کو؛ اور یہ ییل کو بھی نہیں بچائے گا۔”

دانش گاہ یا سیاسی دباؤ کا شکار ادارہ؟

جامعات کے اس کردار پر تنقید کرتے ہوئے یونیورسٹی آف شکاگو کی سماجی ماہر ایمان عبدالہادی نے کہا:
"یہ لمحہ ہماری جامعات کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے – جو بظاہر تحقیق و تنقید کے مرکز ہیں، مگر عملاً طاقتوروں کی خوشنودی کے سامنے خاموش ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا:
"ایک نسل پرست اور شدت پسند وزیر کو مدعو کیا جاتا ہے اور اس پر کوئی قدغن نہیں، لیکن انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے طلبہ کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”

یہ معاملہ نہ صرف امریکہ میں آزادی اظہار کی گرتی ہوئی حالت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ تعلیمی اداروں کے کردار پر بھی گہرے سوالات کھڑے کرتا ہے — کہ آیا وہ حق و صداقت کے متلاشی ادارے ہیں یا محض طاقتور سیاسی دباؤ کے سامنے جھک جانے والے ادارے؟

مقبول مضامین

مقبول مضامین