اتوار, فروری 15, 2026
ہومپاکستانماحولیاتی تبدیلی ملیریا کو مزید خطرناک بنا رہی ہے

ماحولیاتی تبدیلی ملیریا کو مزید خطرناک بنا رہی ہے
م

ماحولیاتی تبدیلی ملیریا کے خطرات کو بڑھا رہی ہے: عالمی ادارۂ صحتاسلام آباد:عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور پاکستان کی وزارت قومی صحت نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ملیریا کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جہاں ہر سال دو ملین سے زائد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔یہ انتباہ 25 اپریل کو منائے جانے والے عالمی یوم ملیریا کے موقع پر جاری کیا گیا۔ اس موقع پر WHO اور حکومتِ پاکستان نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ ملیریا کے بڑھتے خطرے کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا بیان:”ملیریا ایک بڑا عالمی خطرہ ہے، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی اس خطرے کو بڑھا رہی ہے۔ پاکستان اس بیماری کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ صرف ایک صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بہتر، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔”2022 کے تباہ کن سیلاب اور اثرات:2022 کے سیلاب کے نتیجے میں 2022 سے 2024 تک 6.6 ملین اضافی کیسز رپورٹ ہوئے۔2023 میں 2.7 ملین کیسز سامنے آئے، جو 2021 کے 399,097 کیسز سے کئی گنا زیادہ ہیں۔WHO کے مطابق، 2023 میں مشرقی بحیرہ روم خطے میں ملیریا کے 10.2 ملین کیسز رپورٹ ہوئے، جو 2015 کے مقابلے میں 137 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔اہم کامیابیاں:WHO اور Global Fund کی مدد سے 11.4 ملین مشتبہ مریضوں کی اسکریننگ اور 2 ملین تصدیق شدہ مریضوں کو علاج فراہم کیا گیا۔7.8 ملین مچھر دانیوں کی تقسیم نے 2023 کے 2.7 ملین کیسز کو 2024 میں 2 ملین تک کم کرنے میں مدد دی۔عالمی ادارۂ صحت کے نمائندہ ڈاکٹر داپنگ لو کا بیان:”ہم جانتے ہیں کہ ملیریا کا خاتمہ ممکن ہے، لیکن ماحولیاتی تبدیلی ہماری کوششوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اگر تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر سرمایہ کاری کریں اور نئے خطرات کے مطابق ردعمل کو ڈھالیں تو ہم ملیریا کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔”WHO نے "Reinvest, Reimagine, Reignite” کے عالمی تھیم کے تحت ملیریا کے خلاف بھرپور مہم چلانے کی اپیل کی ہے۔اگر آپ چاہیں تو میں اس موضوع پر ایک مختصر اردو پریزنٹیشن یا انفارمیشن بروشر بھی تیار کر سکتا ہوں، جو تعلیمی یا آگاہی مہمات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین