نئی دہلی — بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس سے وابستہ اہم شخصیت رابرٹ وڈرا نے جنوبی کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کو وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندوتوا پالیسی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ واقعہ ایک گہری اور خطرناک نظریاتی سوچ کا مظہر ہے جو بھارت میں اقلیتوں کے لیے بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کو جنم دے رہی ہے۔
رابرٹ وڈرا، جو کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بیٹی اور کانگریس رہنما پریانکا گاندھی کے شوہر ہیں، نے کہا ہے کہ ملک میں ہندوتوا نظریے کو منظم انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے، جس کے تحت اقلیتوں کو خوف و ہراس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت مختلف اقلیتوں کو ان کے مذہبی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے، اور عبادت گاہوں پر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض حلقے مساجد کو مندروں میں تبدیل کرنے کی منظم کوششیں کر رہے ہیں، جب کہ گرجا گھروں کو نذر آتش کیا جانا اقلیتوں کے خلاف دشمنی کی ایک اور شکل ہے۔ وڈرا کے مطابق، ایسی کارروائیاں اقلیتوں میں عدم تحفظ کا گہرا احساس پیدا کر رہی ہیں، اور پہلگام کا واقعہ اسی احساس کا ایک ممکنہ ردعمل ہو سکتا ہے۔
وڈرا کے اس بیان کے بعد بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بی جے پی رہنماؤں نے ان پر دہشت گردوں کی زبان بولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے موقف کو ملک دشمن قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ پہلگام حملے کے بعد واقعے کے محرکات پر مختلف سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، اور وڈرا کا بیان اس بحث کو ایک نئے زاویے سے اجاگر کرتا ہے، جہاں داخلی پالیسیوں کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

