پاکستان اور روس کے درمیان انسداد دہشت گردی پر تعاون بڑھانے کا فیصلہماسکو – پاکستان اور روس کے سینئر حکام نے منگل کے روز افغانستان اور خطے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔ یہ فیصلہ ماسکو میں ہونے والے انسداد بین الاقوامی دہشت گردی پر پاکستان-روس مشترکہ ورکنگ گروپ کے 11ویں اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس کی تفصیلات:پاکستانی وفد کی قیادت اسپیشل سیکرٹری (اقوام متحدہ) نبیل منیر نے کی، جبکہ روسی وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ سرگئی ورشینن نے کی۔فریقین نے دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی سرحد پار نوعیت پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں پاکستان کی جانب سے افغانستان سے ہونے والے حملوں (خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان – TTP) پر تحفظات شامل تھے۔ کابل ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔روس نے داعش کے خطرے کا ذکر کیا، خاص طور پر 22 مارچ 2024 کو ماسکو کے کروکس سٹی ہال پر ہونے والے مہلک حملے کے تناظر میں، جس میں 140 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔اجلاس کی جھلکیاں:دونوں فریقین نے "انٹیلیجنس شیئرنگ”، دہشتگردوں کی نقل و حرکت پر نگرانی، اور مشترکہ حکمت عملیوں پر زور دیا۔ورکنگ گروپ کے اجلاس نے دہشتگردی کے خلاف مربوط اور لچکدار طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اگلا اجلاس 2026 میں طے کیا جائے گا۔یہ تعاون اس وقت بڑھایا جا رہا ہے جب جنوبی و وسطی ایشیا میں دہشتگردی کے خطرات تیزی سے بین الاقوامی شکل اختیار کر رہے ہیں، اور پاکستان و روس اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے زیادہ قریبی ہم آہنگی کے خواہاں ہیں۔اگر آپ چاہیں تو میں TTP، داعش یا دیگر دہشت گرد گروہوں کی علاقائی سرگرمیوں پر بھی تفصیل فراہم کر سکتا ہوں۔

