اتوار, فروری 15, 2026
ہومپاکستانپاکستان اور متحدہ عرب امارات کا مشترکہ بزنس کونسل قائم کرنے پر...

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا مشترکہ بزنس کونسل قائم کرنے پر اتفاق
پ

اسلام آباد: پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پیر کے روز دو معاہدوں اور ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جن کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

یہ پیش رفت یو اے ای کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد سامنے آئی۔

شیخ عبداللہ بن زاید دو روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے۔ یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی "وام” کے مطابق، طے پانے والے معاہدوں میں ایک مشترکہ قونصلر امور کمیٹی کا قیام اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کی یقین دہانی شامل ہے۔

علاوہ ازیں، یو اے ای-پاکستان مشترکہ بزنس کونسل کے قیام کے لیے ایک ایم او یو کا تبادلہ بھی کیا گیا، جس کا مقصد اقتصادی اور تجارتی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔

یہ مفاہمتی یادداشت یو اے ای کے اسسٹنٹ وزیر برائے اقتصادی و تجارتی امور سعید مبارک الحجری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ کے درمیان طے پائی۔

اس ملاقات میں دیگر اہم شخصیات بھی شریک تھیں، جن میں یو اے ای کے وزیر مملکت احمد بن علی السیغ، اسسٹنٹ وزیر برائے توانائی و پائیداری عبداللہ بلاالہ اور پاکستان میں یو اے ای کے سفیر حمد عبید الزابی شامل تھے۔

شیخ عبداللہ بن زاید نے دونوں ممالک کے ترقیاتی اہداف کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یو اے ای-پاکستان تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا، "یو اے ای اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی ہے اور ہم مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔”

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ عبداللہ نے کہا، "مجھے کہنا ہوگا کہ ہمارے تعلقات اچھے انداز میں ترقی کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت اور عوام چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں۔”

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں تیزی آئی ہے اور یہ رجحان تجارت، سرمایہ کاری اور ہوابازی سمیت کئی شعبوں میں جاری رہنا چاہیے۔

وزارت خارجہ میں استقبالیہ کے دوران، اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات محبت اور باہمی عزم پر مبنی ہیں۔

بعد ازاں، یو اے ای کے نائب وزیر اعظم نے وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی شریک ہوئے۔

وزیراعظم نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور پاکستان کے مختلف شعبوں میں مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے مابین موجودہ سیاسی تعلقات کو باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور عوامی روابط میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ملاقات میں خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شیخ عبداللہ نے پاکستان کے ساتھ گہرے اور تاریخی تعلقات پر فخر کا اظہار کیا اور انہیں مزید مستحکم بنانے کی خواہش ظاہر کی۔

انہوں نے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب فروری میں ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ، ریلوے، کان کنی اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں پانچ معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔

یو اے ای، چین اور امریکہ کے بعد پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور گزشتہ دو دہائیوں میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ تقریباً 18 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں مقیم ہیں جو وہاں کا دوسرا سب سے بڑا تارکین وطن گروپ ہے۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ان کی مہارت کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے پاکستان کے سفیر کا کردار ادا کیا ہے اور ان کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نمایاں خدمات انجام دینے اور اسٹیٹ بینک کے ذریعے سب سے زیادہ ترسیلات بھیجنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو سول ایوارڈز دیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے جولائی 2024 سے مارچ 2025 کے دوران پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں 9.3 فیصد اضافے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ میں برآمدات میں 6.27 فیصد کا اضافہ ملک کی معیشت کی مثبت سمت کا مظہر ہے۔

انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ حکومت ایک کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے تاکہ برآمدات میں مسلسل اضافہ ممکن ہو۔

علاوہ ازیں، وزیراعظم نے لاہور اور باکو کے درمیان پی آئی اے کی براہ راست پروازوں کی بحالی کا خیر مقدم کیا اور اسے دونوں برادر ممالک کے درمیان سیاحت اور علاقائی روابط کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔

آخر میں، وزیراعظم نے منگل کے روز ترکیہ کے دورے کا اعلان کیا، جہاں وہ صدر رجب طیب اردوان سے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اسی طرح، پاکستان اور روانڈا نے بھی تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے سفارتی تربیت کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

پاکستان نے روانڈا سے چائے کی درآمدات کے ساتھ ساتھ کافی، ایووکاڈو اور زرعی مصنوعات کے درآمدی امکانات کا بھی عندیہ دیا۔ جبکہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل، چاول، سرجیکل آلات اور کھیلوں کی اشیا کی روانڈا میں برآمدات کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

روانڈا کے وزیر خارجہ نے کرکٹ کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی، اور عالمی امن کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ وابستگی کو سراہا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین