ترکیہ نے وزارت صحت کے نئے قواعد و ضوابط کے تحت سرکاری گزٹ میں شائع کرتے ہوئے نجی طبی مراکز میں بغیر طبی جواز کے اختیاری سیزریئن سیکشن پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ، جس پر حزب اختلاف کے سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، ترکیہ میں خواتین کے پیدائشی طریقے پر جاری گرما گرم بحث کے بعد کیا گیا۔ صدر رجب طیب اردوان خواتین کے لیے قدرتی پیدائش کے طریقے کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ 19 اپریل کو جاری ہونے والی گزٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی اسپتالوں اور طبی مراکز میں بغیر طبی ضرورت کے سیزریئن سیکشن نہیں کیے جا سکتے۔او ای سی ڈی کے 38 ممالک میں ترکیہ میں سی سیکشن کی پیدائش کی شرح سب سے زیادہ ہے، اور ورلڈ پاپولیشن ریویو کے مطابق اس سال ترکیہ میں ہر 1000 زندہ بچوں میں سے 584 کی پیدائش سیزریئن سیکشن کے ذریعے ہوئی تھی۔ اس دوران، بچہ پیدا کرنے کے طریقے پر بحث اس وقت شروع ہوئی جب فینرباچے اور سیواساپور کے درمیان سپر لیگ فٹ بال میچ کے دوران سیواساپور کے کھلاڑیوں نے وزارت صحت کے قدرتی پیدائش کے فروغ کے اقدام کے حق میں ایک بڑا بینر اٹھایا، جس پر لکھا تھا "قدرتی پیدائش قدرتی ہے”۔ اس اقدام پر سیاست دانوں، ڈاکٹروں اور خواتین کے حقوق کے گروپوں کی جانب سے شدید ردعمل آیا۔ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت سی ایچ پی کے ڈپٹی چیئر گوکس گوکن نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ "جیسے ملک میں کوئی اور مسئلہ نہیں ہے، مرد فٹ بال کھلاڑی خواتین کو بتا رہے ہیں کہ بچے کو کیسے جنم دینا ہے، اپنے ہاتھوں کو خواتین کے جسموں سے دور رکھیں”۔ ان کے اس بیان کو دیگر خواتین سیاست دانوں اور حقوق کے گروپوں کی حمایت حاصل تھی۔ جنوری میں اردوان نے 2025 کو "خاندان کا سال” قرار دیا تھا تاکہ ترکیہ کی گرتی ہوئی شرح پیدائش کا مقابلہ کیا جا سکے، جو 2023 میں 1.51 فیصد کی کم ترین سطح پر پہنچی تھی۔

