تحریر: فرزانہ عاشوریون | ماخذ: پریس ٹی وی
اصل رپورٹ
استنبول کے میئر اکرم اِماماوغلو کی گرفتاری کے خلاف ترکی بھر میں مظاہرے جاری ہیں، جنہیں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن اور متعدد مظاہرین کی گرفتاریوں کا سامنا ہے۔ ملک کے تین بڑے شہروں — استنبول، ازمیر اور انقرہ — میں عوامی اجتماعات پر پابندی یکم اپریل تک بڑھا دی گئی ہے۔
پریس ٹی وی نے ترکی کے سیاسی امور کے ماہر مہدی سیف تبریزی سے گفتگو کی، جنہوں نے ترک سیاست پر وسیع پیمانے پر تحقیق کی ہے۔ اس گفتگو میں موجودہ سیاسی بحران کے اثرات اور صدر رجب طیب اردوان کے مستقبل پر روشنی ڈالی گئی۔
سوال: اکرم اماماوغلو پر کیا الزامات عائد کیے گئے ہیں؟
جواب: استنبول کے میئر اور اردوان کے واحد انتخابی حریف اکرم اِماماوغلو پر مختلف نوعیت کے الزامات ہیں، جن میں رشوت لینا، دہشت گرد تنظیموں سے روابط، جعلی کمپنیاں بنا کر بلدیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منصوبے حاصل کرنا، کرد گروہوں کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں تعاون اور تعلیمی اسناد میں جعلسازی شامل ہیں۔ ان کا ماسٹرز ڈگری بھی دو دہائیوں بعد منسوخ کر دی گئی ہے۔
زیادہ تر الزامات سیاسی نوعیت کے معلوم ہوتے ہیں۔ تحقیقات کے دوران اُن کے دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات کے الزامات ختم کر دیے گئے، تاہم مالی بدعنوانی کے الزامات باقی ہیں، جو ان کی کامیاب میئرشپ کو دیکھتے ہوئے سیاسی انتقام کا شائبہ دیتے ہیں۔
سوال: اِماماوغلو کی گرفتاری ترک سیاست پر کیا اثر ڈالے گی؟
جواب: اس کا اثر دو اہم سطحوں پر ہو گا:
- سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی
- ترکی کی مجموعی سیاسی فضا
حکمران جماعت (AKP) ممکنہ طور پر 2016 کی ناکام بغاوت کے بعد اپنائی گئی حکمت عملی کو دہرا سکتی ہے، جس کے تحت پہلے وسیع پیمانے پر گرفتاریاں ہوں گی اور پھر قومی سلامتی کے نام پر مزید دھرپکڑ جاری رہے گی۔
اس وقت CHP کے موجودہ سربراہ اوزگور اوزال اور انقرہ کے مقبول میئر منصور یاوش کی گرفتاریوں کی قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ اب وہ جماعتیں جو نظریاتی طور پر CHP سے متفق نہیں تھیں، اِماماوغلو کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہی ہیں۔
اردوان کی اس کارروائی نے ترک معاشرے میں جمہوریت کے زوال کے تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے۔ سیکولر حلقوں کے علاوہ مذہبی طبقات، حتیٰ کہ بعض سابق اردوان حامی بھی مظاہروں میں شریک ہو چکے ہیں۔
سوال: کیا یہ اقدام انتخابات سے قبل سیاسی حریفوں کو ختم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے؟
جواب: بلاشبہ، یہ حکمت عملی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ گزشتہ صدارتی انتخاب میں بھی اماماوغلو اردوان کے اہم حریف تھے، لیکن انتخاب سے قبل ان پر قانونی الزامات عائد کر کے انہیں نااہل قرار دیا گیا۔
ترک قانون کے مطابق، جس امیدوار پر کوئی قانونی مقدمہ زیر سماعت ہو، وہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا۔
اب ایک بار پھر، اردوان کی جماعت کو حالیہ سروے نتائج سے اندازہ ہوا ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو قبل از وقت انتخابات میں ان کی جیت کے امکانات بہت کم ہوں گے، لہٰذا سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کی پالیسی پھر سے دہرائی جا رہی ہے۔
سوال: مظاہرین کے اہم مطالبات کیا ہیں؟ کیا یہ صرف اِماماوغلو کی رہائی تک محدود ہیں؟
جواب: ابتدائی طور پر مظاہرے خصوصاً جامعات کے طلباء کی سطح پر اماماوغلو کی رہائی کے مطالبے پر مرکوز تھے، مگر پولیس کی کارروائیوں اور سیاسی رہنماؤں کے سخت رویے نے ان مطالبات کو وسعت دی۔
اب ترک نوجوانوں اور مظاہرین کا مرکزی مطالبہ اردوان کا استعفیٰ اور ان کا اقتدار چھوڑنا ہے۔
سوال: کیا مظاہروں کا دائرہ صرف اپوزیشن تک محدود ہے؟
جواب: احتجاج کا دائرہ اب خاصی وسعت اختیار کر چکا ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے افراد اور جماعتیں مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر چکی ہیں۔
سوال: کیا اپوزیشن متحد ہو پائے گی؟
جواب: فی الحال اپوزیشن کے درمیان ایک نازک اتحاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تاہم حکومت کی سخت گیر پالیسی اور سیکیورٹی اداروں کا ردعمل اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا یہ اتحاد مضبوط ہوتا ہے یا بکھر جاتا ہے۔
سوال: ترک عدلیہ کی خودمختاری کا اس معاملے میں کیا کردار ہے؟
جواب: 2016 کی ناکام بغاوت کے بعد اردوان نے عدلیہ اور فوج میں بڑے پیمانے پر تطہیر کی۔ آج ترکی میں عدالتی فیصلے کرنے والے تمام کلیدی ادارے حکمران جماعت AKP کے کنٹرول میں ہیں، اس لیے یہ کہنا بجا ہو گا کہ عدلیہ سیاسی معاملات میں آزاد نہیں ہے۔
سوال: بین الاقوامی برادری کا ردعمل کیسا رہا؟ کیا یہ ترکی کے خارجی تعلقات پر اثر انداز ہو گا؟
جواب: موجودہ احتجاجی تحریک کو غیرملکی حمایت نہ ملنے کے باعث یہ کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بننے کا امکان کم رکھتی ہے۔
یورپی طاقتیں اردوان سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتیں، کیونکہ وہ ترکی کو علاقائی توازن میں اہم کردار کا حامل سمجھتی ہیں۔
شام کی صورتحال کے تناظر میں امریکہ بھی اردوان سے ٹکراؤ سے گریزاں ہے۔ عرب ممالک بھی شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ اخوان المسلمون سے جڑے کسی حکومت سے محاذ آرائی۔
روس کی ترکی پر انحصاری، یوکرین جنگ کے تناظر میں اگرچہ کم ہوئی ہے، تاہم ماسکو اب بھی اردوان کی حکومت کو موزوں سمجھتا ہے۔
لہٰذا مغربی ممالک کی جانب سے ممکنہ ردعمل صرف زبانی بیانات تک محدود رہے گا۔
سوال: کیا ترک میڈیا مظاہروں کی غیرجانبدارانہ کوریج کر رہا ہے؟
جواب: تقریباً 80 فیصد ترک میڈیا سرکاری کنٹرول میں ہے، اس لیے غیرجانبدارانہ رپورٹنگ کی توقع محدود ہے۔ حالیہ دنوں میں متعدد صحافیوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
سوال: کیا مظاہرے بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتے ہیں؟
جواب: اگرچہ ترکی کے ریاستی ادارے اردوان کی 2016 کے بعد کی پالیسیوں کے تحت خاصے مضبوط ہو چکے ہیں، تاہم یہ مظاہرے ترک معاشرے کے انتخابات پر اثر انداز ضرور ہوں گے۔
چاہے اِماماوغلو، منصور یاوش یا کوئی اور اردوان کے خلاف انتخاب لڑے، ترک عوام اب اردوان کے تیس سالہ اقتدار کے خلاف ووٹ ڈالنے کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں۔
سوال: اس بحران کے ترک معیشت پر کیا اثرات ہوں گے؟
جواب: اِماماوغلو کی گرفتاری کے بعد ترک لیرہ اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جب کہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی شدید مندی دیکھی گئی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں 90 فیصد سے زائد مہنگائی نے عوامی اضطراب میں اضافہ کیا ہے۔ موجودہ معاشی بحران اردوان کے لیے آئندہ انتخابات میں ایک کمزور پہلو ثابت ہو سکتا ہے۔
سوال: کیا یہ بحران ترکی کے ماضی کے بحرانوں سے مختلف ہے؟
جواب: موجودہ بحران ماضی کی نسبت زیادہ ہمہ گیر اور گہرے اثرات کا حامل ہے، کیونکہ اس میں مختلف سیاسی جماعتیں اور سماجی طبقات ایک مشترکہ مقصد پر اکٹھے ہو چکے ہیں۔ یہی امر اردوان کی طاقت کو کمزور کرنے اور انتخابی مہم کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

