اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامی’’میں بور ہو جاتا ہوں، اس لیے فائرنگ کرتا ہوں‘‘: اسرائیل کی...

’’میں بور ہو جاتا ہوں، اس لیے فائرنگ کرتا ہوں‘‘: اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کی جنگ کی لرزہ خیز گواہیاں

تحریر: حمیرا احد | پریس ٹی وی

اسرائیلی فوج نے غزہ کو ایک ویرانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ مسلح بلڈوزروں کے ذریعے ہر عمارت کو زمین بوس کیا جا رہا ہے۔ کبھی گہما گہمی سے بھرے بازار، پرامن رہائشیں اور مزدوروں سے آباد فیکٹریاں اب دھماکوں کے ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔

یہ سب کچھ امریکی ہتھیاروں کی مدد سے انجام دیا گیا، جن کے ذریعے صہیونی افواج کو ’’ہر چیز کو تباہ کرنے‘‘ کا حکم دیا گیا۔ رہائشی عمارتیں منہدم کی گئیں، زرعی زمینیں اجاڑ دی گئیں، اور جو کوئی بھی اس نام نہاد ’’بفر زون‘‘ کے قریب دکھائی دیا، اسے گولی کا نشانہ بنا دیا گیا۔

اسرائیلی سابق فوجیوں کی تنظیم ’’بریکنگ دا سائلنس‘‘ نے رواں ماہ کے اوائل میں ایک چشم کشا رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ان فوجی اہلکاروں کی گواہیاں شامل ہیں جو ان بفر زونز کی تخلیق میں شریک رہے۔ رپورٹ نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں کی جانے والی وسیع تباہی کو ایک دستاویزی شکل دی ہے۔

’’موت کا علاقہ‘‘ کیسے بنایا گیا

رپورٹ ’’دی پیری میٹر‘‘ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر 800 سے 1500 میٹر چوڑا اور 1.5 کلومیٹر گہرا ایک علاقہ مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا، جس کا مقصد فلسطینیوں کو بغیر کسی جواب دہی کے قتل کرنا تھا۔

جنگ شروع ہونے سے قبل یہ بفر زون صرف 300 میٹر تک محدود تھا، جس تک محدود رسائی تھی۔ لیکن اب یہ پورا علاقہ مکمل تباہی کے بعد اسرائیلی تسلط میں آ چکا ہے، جو غزہ کی کل زرعی زمین کا تقریباً 35 فیصد بنتا ہے۔

یہ زون غزہ کے شمالی ساحل سے لے کر جنوبی مصری سرحد تک پھیلا ہوا ہے، اور تمام تر غزہ کی پٹی کے اندر واقع ہے، اسرائیلی زیرقبضہ علاقوں سے باہر۔

رپورٹ کے مطابق، ’’اس علاقے میں فصلیں، عمارتیں، یا انسان—کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیا گیا۔ ہر چیز کو منہدم کر دیا گیا، اور فلسطینیوں کا داخلہ اس علاقے میں مکمل طور پر ممنوع کر دیا گیا۔ اس پابندی کو مشین گنوں اور ٹینکوں کی گولہ باری سے نافذ کیا گیا۔‘‘

شہری ڈھانچے کی تباہی بطور حکمت عملی

فوجی گواہیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی افواج نے منظم طریقے سے رہائشی علاقوں، تعلیمی اداروں، مساجد، قبرستانوں، صنعتی زونز اور زرعی علاقوں کو ہدف بنایا۔ اس سب کو بفر زون میں شامل کر کے مکمل طور پر نیست و نابود کیا گیا۔

ایک فوجی نے کہا، ’’ہم نے جو بھی چاہا، تباہ کر دیا۔ نہ یہ بد نیتی تھی، نہ خوشی کی بات، بس مکمل بے حسی تھی۔‘‘

ایک سابق فوجی نے بتایا، ’’ہر گھر کو جلانا لازمی تھا، تاکہ فلسطینی واپس نہ آ سکیں۔‘‘

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے 3,500 سے زائد عمارتوں کو تباہ کیا۔ ایک فوجی کے بقول: ’’ریزیڈنشل عمارتیں، گرین ہاؤسز، شیڈز، فیکٹریاں—سب کچھ مسمار کر دیا گیا۔‘‘

ایک اور گواہی میں شمالی غزہ میں زرعی زمینوں کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا، ’’بلڈوزر نے زیتون، بینگن، گوبھی سمیت ہر چیز زمین بوس کر دی۔‘‘

غزہ کی صنعتوں کی تباہی

شجاعیہ انڈسٹریل زون کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے ایک سابق فوجی نے کہا: ’’بڑی فیکٹریاں صرف ملبے کے ڈھیر بن چکی تھیں۔ سب سے حیران کن منظر کوکا کولا فیکٹری کا تھا، جو شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں سے بھری ہوئی تھی۔‘‘

فوجیوں کا کہنا تھا کہ یہ سب مستقبل میں اسرائیلی بستی ’’نیر اوز‘‘ کے رہائشیوں کی ’’سیکیورٹی‘‘ کے لیے کیا گیا۔

فلسطینیوں پر فائرنگ: ایک ’’تفریح‘‘

گواہیوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں پر فائرنگ کرنا سپاہیوں کے لیے ’’بوریت دور کرنے‘‘ کا ذریعہ بن گیا تھا۔ ایک موقع پر ہنوکا کے تہوار پر، پوری بٹالین نے آسمان کی طرف فائرنگ کی، اور اسے ’’روشنیوں کا تہوار‘‘ قرار دیا۔

ایک کپتان نے کہا، ’’بفر زون میں، اگر کوئی بالغ مرد نظر آتا ہے—تو حکم ہے: گولی مارو، قتل کرو۔‘‘

ایک اور فوجی نے انکشاف کیا، ’’ہم نے دیکھا کہ کوئی بیگ اٹھائے آ رہا ہے، کہا گیا وہ دہشت گرد ہے۔ حالانکہ وہ شاید ’خوبیزہ‘ (پالک جیسی جنگلی سبزی) لینے آیا ہو، لیکن فوراً فائر کھول دیا گیا۔‘‘

ان تمام گواہیوں سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ اسرائیلی فوج نہ صرف غزہ میں منظم نسل کشی کی مرتکب ہو رہی ہے بلکہ اسے باقاعدہ ایک پالیسی کے طور پر نافذ بھی کر رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین