اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیعراق: خودساختہ شامی صدر بغداد آئے تو گرفتار کیا جا سکتا ہے،...

عراق: خودساختہ شامی صدر بغداد آئے تو گرفتار کیا جا سکتا ہے، عراقی رہنما کا انتباہ
ع

عراق کی مزاحمتی تنظیم "عصائب اہل الحق” کے سربراہ قیس الخزعلی نے خبردار کیا ہے کہ شام کے خودساختہ صدر ابو محمد الجولانی کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹ کے پیش نظر، اگر وہ بغداد پہنچے تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

خزعلی نے ہفتے کے روز اپنے سرکاری ایکس (X) اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں الجولانی کے ممکنہ دورۂ بغداد کو قبل از وقت اور قانونی طور پر مسئلہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عراق اور شام کے درمیان مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں، تاہم شام میں سرگرم شدت پسند گروہ "تحریر الشام” (HTS) کے سربراہ کو اس وقت عراق میں خوش آمدید کہنا مناسب نہیں۔

خزعلی نے لکھا: "موجودہ شامی حکومت کے صدر کی عراق میں موجودگی قبل از وقت ہے کیونکہ اگر قانون پر عمل کیا گیا تو ان کی گرفتاری کے لیے سیکورٹی ادارے حرکت میں آ سکتے ہیں، کیوں کہ ان کے خلاف ایک فعال گرفتاری کا وارنٹ موجود ہے۔”

انہوں نے مزید کہا: "اختیارات کی علیحدگی کے اصول کے تحت، عراقی عدلیہ کے فیصلوں کا احترام اور ان پر عمل درآمد تمام فریقوں پر لازم ہے۔”

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے قطر میں شامی صدر سے ملاقات کی تھی، جس میں قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی بھی موجود تھے۔

عراقی سرکاری میڈیا نے اس ملاقات کو ایک "ہنگامی دورہ” قرار دیا، جس کا مقصد شام سمیت خطے میں عدم استحکام کے مسائل پر تبادلہ خیال تھا۔ یہ ملاقات عراق اور شام کے سربراہان کے درمیان اس وقت سے پہلی براہ راست ملاقات تھی جب سابق شامی صدر بشار الاسد HTS کے غیر ملکی حمایت یافتہ حملوں کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہوئے۔

18 اپریل کو دوحہ میں ہونے والی اس ملاقات میں الجولانی اور السودانی نے اپنے ممالک کی خودمختاری اور داخلی امور میں بیرونی مداخلت کی مخالفت پر زور دیا۔

ایک مشترکہ اعلامیے میں دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی و انٹیلی جنس تعاون بڑھانے، اور باہمی تجارت، سرحدی آمد و رفت، اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔

1 اپریل کو الجولانی نے السودانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے دمشق اور بغداد کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کے آغاز کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

HTS کے وزیر خارجہ اسعد الشبانی نے مارچ کے وسط میں بغداد کا دورہ کیا تھا اور اپنے عراقی ہم منصب فواد حسین سے ملاقات کی تھی، جس میں شام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

الجولانی کی ممکنہ آمد ان کا پہلا عوامی دورۂ عراق ہوگا۔ وہ ماضی میں عراق میں قید رہ چکے ہیں، جہاں 2003 میں امریکہ کی زیر قیادت حملے کے بعد انہیں القاعدہ سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تحریر الشام نے 8 دسمبر 2024 کو ایک تیز رفتار فوجی کارروائی کے ذریعے دمشق پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ کارروائی شمال مغربی صوبہ حلب سے شروع ہوئی تھی اور دو ہفتے میں مکمل ہوئی، جس کے نتیجے میں بشار الاسد کی 24 سالہ حکومت کا خاتمہ ہوا۔

HTS کی حکومت نے شام میں، بالخصوص علوی اقلیت کے خلاف، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کی ہیں، جن پر عالمی برادری نے شدید مذمت کی ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کم از کم 42 علوی افراد قتل کیے جا چکے ہیں، جبکہ گزشتہ ماہ ساحلی علاقوں میں تقریباً 1,700 علویوں کے قتل عام کی اطلاع دی گئی تھی۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق (SOHR) کے مطابق، 7 مارچ سے ان واقعات میں تیزی آئی ہے اور اجتماعی قتل و غارت سے انفرادی تشدد کی صورت اختیار کر لی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین