ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی حکومت ماضی میں اسلامی جمہوریہ پر حملہ کرنے میں ناکام رہی ہے اور آئندہ بھی ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔
روسی نشریاتی ادارے آر ٹی (RT) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو ہفتے کے روز شائع ہوا، عراقچی نے کہا کہ یہاں تک کہ امریکی مدد کے باوجود بھی اسرائیلی حکومت ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی انجام نہیں دے سکتی۔
انہوں نے کہا، ’’جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، ہم امریکہ کے خلاف بھی اپنا دفاع کر سکتے ہیں، اور امریکہ ہماری صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اسرائیلی حکومت بھی جانتی ہے کہ ہماری دفاعی صلاحیتیں کیا ہیں اور کسی بھی حملے کی صورت میں ہمارا ردعمل کیا ہوگا۔‘‘
’ایران، روس اور چین عالمی امن کے لیے کوشاں‘
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران نے حالیہ برسوں میں روس اور چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تینوں ممالک ’’عالمی امن کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کے حوالے سے سنجیدہ‘‘ ہیں۔
’تہران اور ماسکو کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط‘
عراقچی نے ایران اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، اس کے باوجود ان کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ قریب اور مضبوط ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’تہران اور ماسکو کے تعلقات آج جتنے قریب اور مضبوط ہیں، اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔‘‘
یاد رہے کہ جنوری میں ایران اور روس نے طویل المدتی تعاون کے لیے ایک جامع اسٹریٹیجک شراکت داری کا معاہدہ کیا تھا، جس کا دائرہ سیاست، دفاع، معیشت، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔
عراقچی کے مطابق، ’’یہ معاہدہ ہمارے تعلقات کو ایک اسٹریٹیجک سطح تک لے جاتا ہے۔ ہمارے درمیان بڑے اقتصادی منصوبے زیرِ عمل ہیں اور تجارتی حجم میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ مغرب کی سخت پابندیوں کے باوجود، ایران اور روس اپنے تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں اور ’’پابندیاں اٹھائے جانے کا انتظار نہیں کر رہے۔‘‘
عراقچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی امور پر یکساں اور قریبی مؤقف رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے درمیان کوئی اختلافات نہیں، بعض اوقات رائے کا فرق ہوتا ہے، لیکن بیشتر معاملات میں ہمارے مؤقف قریب تر ہوتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم مسلسل ایک دوسرے سے مشاورت کرتے رہتے ہیں۔‘‘

