ٹرانسپورٹرز آف گڈز ایسوسی ایشن نے حکام کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ملک گیر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کراچی کی بندرگاہوں پر جاری ہڑتال کے چوتھے دن تجارتی سرگرمیاں اور مال برداری کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا تھا، جس سے کراچی کے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ ہڑتال سندھ حکومت کی جانب سے گاڑیوں کی فٹنس کے نئے ضوابط کے خلاف شروع ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں ہزاروں کنٹینرز بندرگاہوں اور گوداموں میں پھنس گئے تھے۔
یہ ضوابط خاص طور پر ڈمپرز اور واٹر ٹینکروں سے ہونے والے حادثات میں اضافے کے پیشِ نظر سخت کیے گئے تھے، کیونکہ کراچی میں ان قسم کے حادثات میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ سندھ حکومت نے اس اقدام کا مقصد ہیوی ٹریفک سے ہونے والے حادثات کی روک تھام قرار دیا تھا۔کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے صوبائی حکومت اور ڈویژنل انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بھاری گاڑیوں کی خامیوں کو وقت کے ساتھ درست کرنے میں مکمل تعاون کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مال بردار ٹرانسپورٹرز ہر ہفتے ٹریفک پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو رپورٹ فراہم کریں گے اور اس دوران وہ کوئی بھی گاڑی نہیں چلائیں گے جو سڑک کے قابل نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضبط کی گئی بڑی گاڑیاں فوری طور پر چھوڑ دی جائیں گی، تاہم جن گاڑیوں کی حالت نہایت خستہ ہوگی، وہ ایک حلف نامے کے تحت مالکان کو فراہم کی جائیں گی، جس میں یہ یقین دہانی شامل ہوگی کہ گاڑی اس وقت تک سڑک پر نہیں آئے گی جب تک اس کی انسپیکشن نہ ہو اور فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل نہ کر لیا جائے۔
گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر طارق گجر نے کہا کہ حکام نے ان کے مطالبات کو جائز تسلیم کیا اور مختلف مسائل، جن میں بھاری گاڑیوں کی فٹنس بھی شامل ہے، پر عملدرآمد کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا تاکہ شہر میں بڑھتے ہوئے حادثات پر قابو پایا جا سکے۔
طارق گجر نے بتایا کہ کمشنر نے انہیں آگاہ کیا کہ موٹر وہیکل انسپکٹرز کی تعداد بڑھا کر 25 کر دی گئی ہے اور مزید 25 انسپکٹرز بھرتی کیے جائیں گے تاکہ گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ یہ انسپکٹرز ان کے دفاتر کا دورہ کریں گے اور کمپیوٹرائزڈ فٹنس سرٹیفکیٹس جاری کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے صوبائی حکومت کو تجویز دی ہے کہ کراچی کے اہم علاقوں، بشمول صدر اور طارق روڈ، سے ہزاروں گوداموں کو شہر کے مضافات میں منتقل کیا جائے۔ مزید برآں، یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ شہر کے صنعتی علاقوں میں بھاری گاڑیوں کے لیے مخصوص سڑکیں قائم کی جائیں اور انہی شاہراہوں پر موٹر سائیکلوں کے لیے علیحدہ ٹریک مختص کیے جائیں تاکہ مستقبل میں حادثات سے بچا جا سکے۔

