پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کابل کا ایک روزہ دورہ مکمل کر لیا، جس دوران پاکستان اور افغانستان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ایک دوسرے کی سرزمین کو دہشتگردی یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ دونوں ممالک نے اس بات کا عزم کیا کہ ایسی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
اہم نکات:
مشترکہ عزم: دونوں ممالک نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ ان کی زمین کسی دشمن عناصر کے لیے استعمال نہیں ہوگی، اور اگر ایسا ہوا تو دونوں فریق اس کے خلاف فوری کارروائی کریں گے۔
مسلسل مکالمہ: دوطرفہ مسائل کو مثبت انداز میں حل کرنے کے لیے مکالمہ جاری رکھنے پر اتفاق۔
مہاجرین کا مسئلہ: افغان مہاجرین کے حوالے سے چار اہم فیصلے کیے گئے، جن میں باعزت واپسی، جائیداد کے حقوق اور بدسلوکی سے تحفظ شامل ہے۔
تجارت و ٹرانزٹ: 30 جون تک ٹریکنگ سسٹم فعال کرنے اور تجارتی وفود و نمائشوں کو فروغ دینے پر اتفاق۔
سیکیورٹی و روابط: بارڈر مینجمنٹ اور علاقائی رابطوں (جیسے تاپی، CASA-1000 اور افغان ٹرانس ریل منصوبے) پر زور۔
ملاقاتیں: قائم مقام افغان وزیرِ اعظم ملا حسن اخوند، وزیرِ خارجہ امیر خان متقی اور نائب وزیرِ اعظم عبدالسلام حنفی سے ملاقاتیں۔
افغان خدشات: کابل نے افغان مہاجرین کی جبری ملک بدری پر تحفظات کا اظہار کیا اور ان کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
مستقبل کے اقدامات: اہم مسائل کے حل اور باہمی تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق۔
اسحاق ڈار نے اس دورے کو خیرسگالی کا پیغام قرار دیا اور کہا کہ دونوں مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے اور خطے کی معاشی ترقی و عوام کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

