اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ نے ویزا درخواستوں کے لیے غزہ سے متعلق سوشل میڈیا کی...

ٹرمپ نے ویزا درخواستوں کے لیے غزہ سے متعلق سوشل میڈیا کی جانچ کا حکم دے دیا
ٹ

ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ طور پر تمام امریکی ویزا درخواست گزاروں کے لیے سوشل میڈیا کی جانچ کا حکم دیا ہے جو یکم جنوری 2007 یا اس کے بعد غزہ کی پٹی کا سفر کر چکے ہوں، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔ یہ ہدایت ایک خفیہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کیبل کے ذریعے سامنے آئی ہے، جس کا مقصد غیر ملکی مسافروں کے لیے سیکیورٹی چیک کو مزید سخت بنانا ہے۔یہ حکم امیگرنٹ اور نان امیگرنٹ دونوں اقسام کے ویزا درخواست دہندگان پر لاگو ہوتا ہے، جن میں غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کے کارکن اور وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے کسی سرکاری یا سفارتی حیثیت میں غزہ کا دورہ کیا ہو۔یہ کیبل تمام امریکی سفارتی و قونصل خانوں کو بھیجی گئی تھی، اور یہ اقدام صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے وسیع تر دباؤ کا حصہ ہے، جس نے پہلے ہی ملک بھر میں سینکڑوں ویزے منسوخ کیے ہیں، اور بعض قانونی مستقل رہائشیوں کی حیثیت بھی واپس لے لی ہے۔ اس کے لیے انتظامیہ نے 1952 کے اس قانون کو بنیاد بنایا ہے جو کسی بھی ایسے تارک وطن کی ملک بدری کی اجازت دیتا ہے جسے وزیر خارجہ امریکی خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ قرار دے۔کیبل میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر سوشل میڈیا کی جانچ میں سیکیورٹی سے متعلق کوئی قابل اعتراض مواد سامنے آتا ہے، تو پھر سیکیورٹی ایڈوائزری اوپینین (SAO) یعنی ایک بین ایجنسی تحقیق کی سفارش کی جائے گی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ویزا درخواست دہندہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ تو نہیں۔مزید یہ بھی کہا گیا کہ تمام ویزا درخواست گزاروں کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے، اور "سیکیورٹی جانچ ہر درخواست کے وقت سے لے کر ویزے کے فیصلے اور اس کے اجرا کے بعد بھی جاری رہتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فرد امریکہ سفر کے لیے اہل ہے۔”امریکی امیگریشن حکام ایسے حربے استعمال کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں جیسے کہ جعلی سوشل میڈیا پروفائلز بنا کر افراد کی نگرانی اور تحقیقات کرنا۔ مثال کے طور پر، 2019 میں دی گارڈین نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے غیر ملکی طلبہ کی امیگریشن دھوکہ دہی کی تحقیقات کے لیے جعلی یونیورسٹی پروفائلز بنائے تھے۔

ٹرمپ کی آزادی اظہار رائے پر جنگ

17 اپریل کی تاریخ والی اس کیبل پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخط ہیں، جنہوں نے مارچ کے آخر میں کہا تھا کہ وہ پہلے ہی 300 سے زائد ویزے منسوخ کر چکے ہیں۔ جب اس کیبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے اندرونی رابطوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، تاہم یہ کہا کہ امریکہ آنے والے تمام ممکنہ مسافروں کی بین ایجنسی سیکیورٹی جانچ کی جاتی ہے۔

ترجمان نے کہا، "ٹرمپ انتظامیہ ہماری قوم اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ویزا کے عمل میں اعلیٰ ترین قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے معیارات کو یقینی بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔”

اس کے علاوہ، ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ غیر ملکی طلبہ جو فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں یا غزہ میں "اسرائیل” کے اقدامات پر تنقید کرتے ہیں، انھیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ایسے اقدامات امریکی خارجہ پالیسی مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت حاصل اظہارِ رائے کی آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

اگرچہ امریکی آئین تمام افراد کو – خواہ ان کی امیگریشن حیثیت کچھ بھی ہو – آزادی اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے، لیکن ایسے کئی نمایاں واقعات سامنے آئے ہیں جن میں ان طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے جنہوں نے "اسرائیل” کی غزہ میں فوجی کارروائیوں کی مخالفت کی۔

ان میں سب سے نمایاں واقعہ ٹفٹس یونیورسٹی کی ترک طالبہ رومیسہ اوزترک کی گرفتاری کا تھا، جنہیں ویڈیو میں ماسک پہنے ایجنٹس کے ہاتھوں حراست میں لیا جاتا دکھایا گیا۔

جب گزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس میں اوزترک کے کیس پر سوال کیا گیا تو روبیو نے جواب دیا، "جب بھی مجھے ان میں سے کوئی پاگل نظر آتا ہے، میں ان کا ویزا منسوخ کر دیتا ہوں،” اور خبردار کیا کہ مزید افراد کو بھی ایسے انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین