ایرانی وزیر خارجہ: ہم ہفتے کے روز امریکہ کے ساتھ غیر مستقیم مذاکرات میں سنجیدگی سے شریک ہوں گے / رہبر معظم کا پیوٹن کے نام پیغام اہم نکات پر مشتمل تھا
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے:
ہم ہفتے کے دن امریکہ کے ساتھ غیر مستقیم مذاکرات میں پوری سنجیدگی سے شریک ہوں گے، اور فریقِ مقابل کی شرکت کے انداز کو دیکھتے ہوئے ہم یہ فیصلہ کریں گے اور جائزہ لیں گے کہ اس راستے کو کس طرح آگے بڑھایا جائے۔
ایسنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سید عباس عراقچی نے روس میں ایرانی سفارت خانے میں یومِ فوج کی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے گزشتہ روز ہونے والی ملاقات اور اپنے دورہ ماسکو کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا: اس سفر کا پہلا مقصد رہبر معظم انقلاب اسلامی کا پیغام پہنچانا تھا۔ یہ پیغام خود رہبر معظم نے تحریر فرمایا تھا، جس میں مختلف موضوعات شامل تھے، جن میں علاقائی مسائل، دو طرفہ تعلقات اور روس کے ساتھ جاری تعاون کے امور شامل تھے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ پیغام اہم نکات پر مشتمل تھا، جنہیں رہبر معظم چاہتے تھے کہ روسی صدر کے سامنے پیش کیے جائیں۔ صدر پیوٹن نے وہ خط وہیں پڑھا، جس کے بعد میں نے مزید تفصیلی وضاحت پیش کی، اور پھر دو طرفہ اور علاقائی تعاون پر طویل گفتگو ہوئی۔
اس اعلیٰ سطحی ایرانی سفارت کار نے کہا: صدر روس کے ساتھ ملاقات میں علاقائی معاملات کے ساتھ ساتھ عالمی تبدیلیوں، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری غیر مستقیم مذاکرات، اور روس و امریکہ کے درمیان مذاکرات پر بھی تفصیل سے بات ہوئی۔
انہوں نے کہا: فریقین نے ان امور پر اپنے اپنے نقطہ نظر پیش کیے۔ میری نظر میں یہ ملاقات نہایت مفید، سنجیدہ اور عملی نوعیت کی تھی۔
عراقچی نے ایران اور امریکہ کے درمیان غیر مستقیم مذاکرات کے حوالے سے کہا: حقیقت یہ ہے کہ ہمیں امریکہ کی طرف سے متضاد اور متناقض پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ ان کا مطلب اور اہداف کیا ہیں، یہ خود ان پر منحصر ہے۔ ہمارے لیے وہی باتیں معیار اور فیصلہ کن ہیں، جو مذاکرات کی میز پر (خواہ وہ بلاواسطہ نہ ہوں) کہی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا: ہم نے بھی اپنے مؤقف کو نہایت سنجیدگی اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ہم ان مذاکرات کو پوری سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
عراقچی نے مزید کہا: ان مذاکرات میں ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے، اور ہم نے یہ مؤقف فریقِ مقابل کو بھی پوری وضاحت سے پیش کیا ہے۔ ہماری باتیں نہ ماضی میں بدلی ہیں اور نہ آئندہ بدلیں گی، ہم ہر روز نئی بات نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے فریقین بھی اسی سنجیدگی، ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوں۔
انہوں نے کہا: صرف اسی صورت میں مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں اور ان کا کوئی مفید نتیجہ نکل سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے زور دیا: ہم ہفتے کے دن غیر مستقیم مذاکرات میں سنجیدگی سے شریک ہوں گے، اور فریقِ مقابل کی شرکت کے انداز کے مطابق ہم اس راستے کو جاری رکھنے کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل طے کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا: روم (اٹلی) مذاکرات کا میزبان نہیں ہے، بلکہ صرف مقام ہے؛ ان غیر مستقیم مذاکرات کا میزبان اب بھی سلطنت عمان ہے، اور ہم اسی جگہ پر موجود ہوں گے جو میزبان ملک متعین کرے گا۔ وزیر خارجہ عمان اور وہاں کی حکومت بدستور مذاکرات کی میزبانی، ثالثی اور غیر مستقیم رابطے کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔
عراقچی نے کہا: جی ہاں، میں ہفتے کو روم جاؤں گا اور غیر مستقیم مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز کیا جائے گا۔
اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں عراقچی نے کہا: چین، روس، اور وہ تمام ممالک جو ہمارے ساتھ قریب یا دور کے تعلقات رکھتے ہیں، مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کر چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ایران کی یہ آمادگی کہ وہ سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، چاہے وہ بلاواسطہ نہ بھی ہو، ان تمام ممالک کی جانب سے مثبت طور پر قبول کی گئی ہے، جن سے ہماری بات چیت ہوئی ہے۔ سب نے اس عمل میں مدد فراہم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے؛ فی الحال ہم یہ کام عمان کے ذریعے انجام دے رہے ہیں، لیکن روس بھی اس عمل میں یقینی طور پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

