اتوار, فروری 15, 2026
ہومپاکستان'گزشتہ سال توہین مذہب کے مقدمات میں 70 فیصد ملزمان مسلمان تھے'

‘گزشتہ سال توہین مذہب کے مقدمات میں 70 فیصد ملزمان مسلمان تھے’
'

لاہور: سینٹر فار سوشل جسٹس (CSJ) نے اپنی سالانہ "ہیومن رائٹس آبزرور” رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں 2024 کے دوران ملک میں توہین مذہب کے الزامات، جبری تبدیلی مذہب اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک میں تشویشناک اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں اہم مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے جن میں توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال، اقلیتی لڑکیوں/خواتین کی جبری تبدیلی مذہب، تعلیمی نظام میں موجود مسائل، نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے قیام میں رکاوٹیں، اقلیتی قیدیوں سے امتیازی سلوک، پارلیمانی امور میں اقلیتوں کے حقوق، اور مردم شماری میں اقلیتوں کی نمائندگی شامل ہیں۔

یہ رپورٹ ان مسائل کے حل کے لیے عملی تجاویز بھی فراہم کرتی ہے اور سال بھر میں پیش آنے والی اہم پیش رفتوں اور واقعات کا احاطہ بھی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں توہین مذہب کے 344 نئے کیسز درج کیے گئے، جن میں 70 فیصد ملزمان مسلمان تھے، جبکہ احمدی (14 فیصد)، عیسائی (6 فیصد) اور ہندو (9 فیصد) شامل تھے۔پنجاب میں توہین مذہب کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن کی شرح 62 فیصد رہی، جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع شیخوپورہ (32 کیسز) اور لاہور (28 کیسز) رہے۔ افسوسناک طور پر، گزشتہ سال توہین مذہب کے الزامات پر 10 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ 1987 سے اب تک کم از کم 2,793 افراد پر توہین مذہب کے تحت مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 1994 سے 2024 کے درمیان 104 ماورائے عدالت قتل ریکارڈ کیے گئے۔

جبری تبدیلی مذہب اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کے تحت 2021 سے 2024 کے درمیان 421 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر ہندو (282) اور عیسائی (137) لڑکیوں سے متعلق تھے۔ حیران کن طور پر، ان میں سے 71 فیصد متاثرین نابالغ تھیں، اور سندھ سے 69 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں جیلوں کی امتیازی پالیسیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جن کے تحت اقلیتی قیدیوں کو وہ رعایتیں نہیں دی جاتیں جو مسلمان قیدیوں کو حاصل ہیں۔ علاوہ ازیں، درسی کتب میں غیر مذہبی مضامین میں بھی اسلامی مواد شامل کیا جا رہا ہے، جس سے اقلیتی طلبہ کے تعلیمی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

اگرچہ 2025 میں نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز بل پیش کیا گیا، تاہم تاخیر اور کمزور عمل درآمد بدستور جاری ہے۔ اسمبلیوں میں پیش کیے گئے 186 بلوں میں سے صرف 23 انسانی حقوق سے متعلق تھے، جن میں صرف ایک بل اقلیتوں سے متعلق تھا جو قانون کی شکل اختیار کر سکا۔

سی ایس جے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر عمل کرے تاکہ اقلیتوں کے لیے ادارہ جاتی تحفظات کو مؤثر بنایا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین