اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیترک عوام کی اکثریت قبل از وقت صدارتی انتخابات کی حامی ہے،...

ترک عوام کی اکثریت قبل از وقت صدارتی انتخابات کی حامی ہے، سروے
ت

ایک حالیہ عوامی رائے شماری سے ظاہر ہوا ہے کہ ترکی کے شہریوں کی اکثریت ملک میں قبل از وقت صدارتی انتخابات کے انعقاد کی حامی ہے۔

"ایریا اراستِرما” (Area Arastırma) نامی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق، 54.5 فیصد ترک شہری فوری صدارتی انتخابات کے حق میں ہیں، جبکہ 41.4 فیصد اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

یہ سروے 9 سے 15 اپریل کے درمیان 2,000 افراد سے رائے لے کر کیا گیا، جس میں مرد و خواتین کے خیالات میں واضح فرق بھی سامنے آیا۔ نتائج کے مطابق، 57 فیصد خواتین اور 52 فیصد مرد فوری انتخابات کے حامی ہیں۔

قبل از وقت انتخابات کی حمایت خصوصاً اپوزیشن جماعتوں میں نمایاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جمہوری خلق پارٹی (CHP) کے حامیوں میں 92 فیصد سے زائد افراد قبل از وقت انتخابات کے حق میں ہیں، جبکہ حکمران آق پارٹی (AKP) کے حامیوں میں صرف 11 فیصد اس کی تائید کرتے ہیں۔

سروے میں موجودہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر عوامی عدم اطمینان بھی واضح طور پر سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 75 فیصد سے زائد افراد کا ماننا ہے کہ حکومت کی اقتصادی حکمتِ عملی ناکام ہو چکی ہے۔

ترکی میں سیاسی کشیدگی اور عوامی اضطراب

یہ سروے ایسے وقت میں منظر عام پر آیا ہے جب ترکی شدید سیاسی تناؤ کا شکار ہے۔ ملک کو معاشی مشکلات، بلند مہنگائی، اور گرتی ہوئی کرنسی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے سبب عوام میں بڑھتا ہوا اضطراب پایا جاتا ہے۔

صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کو نہ صرف معاشی معاملات پر بلکہ جمہوری اصولوں سے انحراف اور اختیارات کے ارتکاز پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔

قبل از وقت انتخابات پر اپوزیشن اور حکومتی جماعت کے حامیوں کے درمیان نمایاں فرق، ملک میں گہری سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تقسیم ممکنہ طور پر ترکی کے سیاسی مستقبل پر اثرانداز ہو سکتی ہے، حالانکہ آئندہ عام انتخابات 2028 میں متوقع ہیں۔

CHP کو سرکاری نگرانی میں لینے کی کوشش؟

رواں ماہ کے آغاز میں جمہوری خلق پارٹی (CHP) نے ایک غیر معمولی کانگریس کا انعقاد کیا تاکہ پارٹی پر حکومت کی طرف سے ممکنہ سرپرستی (ٹرسٹی مقرر کرنے) کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب انقرہ اور استنبول کے استغاثہ نے پارٹی کی حالیہ کانگریس سے متعلق بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

انقرہ میں تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ 4 اور 5 نومبر 2023 کو ہونے والی CHP کی 38ویں عمومی کانگریس کے دوران ووٹوں کی خرید و فروخت کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

اسی دوران، استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر نے صوبائی انتخابات سے متعلق تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں مبینہ طور پر انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔

CHP کے رہنما اوغر اوزال (Ozgur Ozel) نے 21 مارچ کو ایک بیان میں کہا:
"وہ چاہتے ہیں کہ اتاترک کی جماعت پر ٹرسٹی مقرر کیا جائے۔ ہم نے غیر معمولی کانگریس بلا کر ان کوششوں کو ناکام بنایا اور پوری ترک قوم کو آگاہ کریں گے۔”

یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ استنبول کے میئر اور CHP کے کلیدی رہنما اکرم امام اوغلو کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ انہیں بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین