اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامی"اسرائیل" کی خان یونس اور المواسی میں خیمہ بستیوں پر بمباری، درجنوں...

"اسرائیل” کی خان یونس اور المواسی میں خیمہ بستیوں پر بمباری، درجنوں شہید
&

"اسرائیل” نے فلسطینی پناہ گزینوں کے خیمہ کیمپوں پر شدید فضائی حملے کرتے ہوئے درجنوں نہتے شہریوں کو زندہ جلا ڈالا، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق، جمعرات کے روز خان یونس کے علاقے المواسی میں خیمہ بستیوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 40 فلسطینی شہید ہو گئے۔ حملے اس وقت کیے گئے جب اسرائیلی جارحیت ایک بار پھر غزہ کے مختلف علاقوں میں شدت اختیار کر چکی ہے، بالخصوص خان یونس میں۔

سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ خان یونس کے جنوبی علاقے المواسی میں دو میزائلوں نے کئی خیموں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد شہید اور 23 زخمی ہو گئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

ایک عینی شاہد اور حملے میں زندہ بچنے والی اسرائی ابو الروس نے بتایا: "ہم خدا کی پناہ میں پرامن طور پر خیمے میں بیٹھے تھے کہ اچانک ہمیں ایک سرخ چمک دکھائی دی — اور پھر خیمہ دھماکے سے پھٹ گیا، آس پاس کے خیموں میں بھی آگ لگ گئی۔ ہم اس خیمے سے بھاگ کر سمندر کی طرف گئے اور پیچھے جلتے ہوئے خیمے دیکھے۔”

المواسی کے علاوہ، بصل کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں نے مزید دو خیمہ بستیوں کو نشانہ بنایا: ایک بیت لاہیا میں، جہاں سات افراد شہید ہوئے، اور دوسرا المواسی کے قریب، جہاں ایک باپ اور اس کا بیٹا شہید ہوئے۔

جبالیا میں اسرائیلی حملوں میں مزید 13 افراد شہید ہوئے، جن میں سات کا تعلق اسالیہ خاندان سے تھا۔ ایک اور حملہ ایک اسکول پر کیا گیا جو عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، وہاں چھ افراد جان سے گئے۔ غزہ شہر میں گولہ باری سے مزید دو افراد شہید ہوئے۔

"اسرائیل” کی جانب سے غزہ کو تقسیم کرنے کی کوششیں

جنگ بندی کے خاتمے کے بعد، "اسرائیل” کی خونریز یلغار نے غزہ کے بڑے حصوں، خصوصاً شمالی علاقوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، اور ہزاروں عام شہریوں کو شہید کیا ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

بدھ کے روز "اسرائیل” نے اعلان کیا کہ اس نے غزہ پٹی کے 30 فیصد حصے کو "بفر زون” میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس سے قبل "مورگ کاریڈور” قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد رفح کو باقی غزہ سے کاٹ دینا تھا۔

اسرائیلی ویب سائٹ Ynet کے مطابق، 36ویں ڈویژن اس کاریڈور میں جارحیت کی قیادت کر رہی ہے، جبکہ اعلیٰ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس کاریڈور کو تقریباً 12 کلومیٹر طویل اور 1.5 کلومیٹر چوڑا بنایا جائے گا۔

اسرائیلی سکیورٹی وزیر اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی افواج مورگ کاریڈور اور مصری سرحد کے ساتھ واقع فلادلفی کاریڈور کے درمیان پورے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرے گی، جو رفح کو "بفر زون” میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فلسطینیوں کو رفح سے زبردستی نکال کر علاقے پر قبضہ کیا جائے گا۔

انسانی بحران پر عالمی تنظیموں کا انتباہ

بارہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں، جن میں آکسفیم اور سیو دی چلڈرن شامل ہیں، نے ایک مشترکہ بیان میں غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی نئی لہر پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: "غزہ میں ہر فرد کی بقاء اب انسانی امداد پر منحصر ہے۔”

ان تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل اسرائیلی فضائی حملوں اور امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کے سبب علاقے میں شدید بھوک، پناہ کی کمی اور صحت کی سہولیات کا بحران تباہ کن سطح پر پہنچ چکا ہے۔

قطر نے جنگ بندی کی ناکامی کا الزام "اسرائیل” پر دھر دیا

قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ماسکو کے دورے کے دوران کہا کہ "اسرائیل” نے رواں سال کے آغاز میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے کہا: "جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہم نے مہینوں پہلے ایک معاہدہ کیا تھا، لیکن افسوس کہ اسرائیل نے اس پر عملدرآمد نہیں کیا۔”

جنوری میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی سے ہونے والا جنگ بندی معاہدہ ناکام ہو چکا ہے، اور اسرائیلی افواج نے ایک بار پھر غزہ، بالخصوص خان یونس اور المواسی، میں حملے تیز کر دیے ہیں۔

آج ہی حماس نے بیان دیا ہے کہ وہ ایسے جزوی حل کو قبول نہیں کرے گی جو غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہ دے۔

المرآیئدن سے بات کرتے ہوئے، حماس کے ایک نمائندے نے زور دیا کہ کسی بھی حل کو مکمل اور جامع ہونا چاہیے، جبکہ موجودہ اسرائیلی جنگ بندی کی تجویز، حماس کے بنیادی مطالبات — مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا — کو پورا نہیں کرتی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین