یمن، الحدیدہ:
یمن کے شمال مغربی شہر الحدیدہ کے قریب واقع راس عیسیٰ آئل پورٹ پر امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں شدید تباہی اور جانی نقصان ہوا ہے۔ یمنی حکومت نے ان حملوں کو "مکمل جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
جمعرات کو راس عیسیٰ کی اس تیل بردار بندرگاہ پر مسلسل امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی جسے فائر بریگیڈ کی ٹیمیں قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ المیادین کے مطابق جمعہ کی صبح تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ان حملوں میں 38 مزدور شہید جبکہ 102 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ متعدد افراد کی حالت نازک ہے اور کچھ تاحال لاپتہ ہیں۔
صنعاء میں قائم حکومت نے اس حملے کو "بے نقاب اور دانستہ جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے امریکہ کو مکمل طور پر اس جارحیت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ حکومتی بیان میں کہا گیا:
"یہ مجرمانہ کارروائی ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ امریکی دشمن جان بوجھ کر شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے پیش کردہ جواز جھوٹ پر مبنی اور گمراہ کن ہیں۔”
یمنی حکومت نے واضح کیا کہ امریکی حملے ان کے فلسطین کی حمایت پر مبنی اقدامات کو روک نہیں سکتے۔ بیان میں مزید کہا گیا:
"ہم اپنی وہ تمام آپریشنز جاری رکھیں گے جو اسرائیلی بحری جہازوں کو بحیرہ احمر میں کامیابی سے روکنے میں 100 فیصد مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔”
حکومت نے قانونی حق دفاع کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ امریکی جارحیت کے تمام نتائج کا ذمہ دار واشنگٹن کو سمجھتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، راس عیسیٰ پر تازہ حملے جمعہ کو علی الصبح بھی جاری رہے۔ امریکی طیاروں نے دوبارہ بمباری کی، جس کے نتیجے میں فائر فائٹرز کی ٹیموں کے پانچ ارکان شہید ہو گئے جو آگ بجھانے میں مصروف تھے۔
یہ حملہ امریکی فضائی کارروائیوں کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے، جس میں یمن کے مختلف صوبوں میں شہری علاقوں اور اہم بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن ان حملوں کا مقصد میزائل لانچنگ سائٹس کو تباہ کرنا بتاتا ہے، لیکن یمنی حکام اور عوام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں سب سے زیادہ نقصان شہریوں کو پہنچ رہا ہے۔
راس عیسیٰ تیل بندرگاہ، جو یمن کی توانائی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، کی تباہی نے بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش پیدا کی ہے۔ دیگر حملوں میں بھی اسپتال، اسکول، رہائشی علاقے اور مواصلاتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
بحیرہ احمر اور فلسطین کی حمایت
امریکی حملوں اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود یمن نے فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہاز رانی کو روکنے کی ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور یہ یمن کے عوام کے لیے فخر کا باعث ہیں۔
یمنی حکومت کی فلسطین سے وابستگی اس کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ امریکی دباؤ کے باوجود یمن نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کر رہا ہے بلکہ اسرائیلی قبضے کے خلاف خطے میں یکجہتی کو فروغ دینے کے عزم پر بھی قائم ہے۔

