تحریر: دی کریڈل
ایک معروف امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق یمن کی حکومتِ صنعاء نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مالی مراعات اور اقتصادی ترغیبات کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ جب تک اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے، محاصرہ اور جنگ کا خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی بھی برقرار رہے گی۔
اصولوں کی فتح، ترغیبات کی ناکامی
امریکہ کی جانب سے یمن پر حملوں کا دوسرا مہینہ مکمل ہو چکا ہے، تاہم تاحال کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ اسی تناظر میں امریکی جریدے The Cradle نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن نے یمن کو غزہ کے لیے عسکری حمایت سے روکنے کی غرض سے مختلف معاشی مراعات کی پیشکش کی تھی، مگر صنعاء کی قیادت نے ان تمام تجاویز کو سختی سے مسترد کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی عسکری مہم نہ صرف نتائج سے خالی رہی بلکہ اب تک اس کا کوئی واضح لائحہ عمل بھی سامنے نہیں آ سکا۔ اس صورتحال نے خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جو پہلے ہی اس بحران میں الجھ چکے ہیں۔
یمن و فلسطین: ایک ہی جدوجہد کے دو محاذ
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی یہ کوشش کہ یمن کی مزاحمت کو اسرائیل-غزہ تنازع سے الگ ظاہر کیا جائے، زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتی۔ صنعاء کی کارروائیاں، بالخصوص بحیرۂ احمر میں، دراصل اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں شروع ہوئیں اور جنوری 2025 میں غزہ میں عارضی فائر بندی کے بعد کچھ عرصے کے لیے رکی تھیں۔ تاہم ٹرمپ کے دوبارہ منصبِ صدارت پر فائز ہونے اور اسرائیل کی وعدہ خلافیوں کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ بحال ہو گیا۔
اصولوں پر قائم، مفادات پر نہیں
امریکی دباؤ کے باوجود یمن نے نہ صرف اپنی پالیسی میں کوئی نرمی برتی بلکہ معاشی ترغیبات کو بھی ٹھکرا دیا۔ امریکی حکام نے سعودی عرب کے ساتھ جاری اقتصادی مذاکرات معطل کر کے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، اور یمن کو ترغیب دی کہ وہ غزہ کے معاملے میں غیر جانب داری اختیار کرے۔ تاہم صنعاء نے واضح طور پر کہا کہ فلسطین کی حمایت اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہے، جس پر کوئی سودے بازی ممکن نہیں۔
قیمت چکانے کے باوجود اصولی مؤقف برقرار
یمنی قیادت کے مطابق فلسطین کا دفاع ایک غیر مشروط اور اصولی مؤقف ہے، جس کے بدلے میں اگر اقتصادی نقصان بھی ہو تو وہ قبول ہے۔ اسی مؤقف کی پاداش میں صنعاء کے سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے، جبکہ ریاض اور ابوظہبی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ دونوں ممالک نے اس مؤقف کو جواز بنا کر اپریل 2022 کی فائر بندی بھی ختم کر دی اور یمن پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکہ و اسرائیل سے مفاہمت کا امکان مسترد
رپورٹ کے مطابق انصاراللہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی مخالفت وقتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ اس کی سیاسی شناخت کا اہم جز ہے۔ یہ گروہ امریکہ اور اسرائیل کی بالادستی کو مسترد کرتا ہے اور کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرتا جو اس اصول کے منافی ہو۔ اس کے برعکس، سعودی عرب اور امارات بدستور امریکی جغرافیائی اتحاد کا حصہ ہیں اور فلسطینی مسئلے پر اپنی پوزیشن واشنگٹن کی خوشنودی کے لیے قربان کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کی واپسی کے بعد امداد کی معطلی
جنوری 2025 میں ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد یمن پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا۔ امریکی صدارتی حکم نامہ 14169 کے تحت یمن کے لیے تمام ترقیاتی امدادی منصوبے 90 دن کے لیے معطل کر دیے گئے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں متعدد فلاحی ادارے شدید مالی بحران کا شکار ہو گئے، کئی منصوبے بند اور ملازمین برطرف کر دیے گئے، جس کا براہ راست اثر غریب اور متاثرہ آبادی پر پڑا۔
مزید برآں، انصاراللہ کو دوبارہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد امریکی ترقیاتی ادارے (USAID) نے ان تمام این جی اوز سے روابط منقطع کر لیے جو کسی بھی صورت میں انصاراللہ سے منسلک تھیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں نہ صرف غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے طبی امداد متاثر ہوئی بلکہ ہنگامی خوراکی فراہمی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا، جس سے یمن میں انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا۔

