اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامییمن کے قریب یو اے ای کا اسرائیلی ریڈار نصب

یمن کے قریب یو اے ای کا اسرائیلی ریڈار نصب
ی

متحدہ عرب امارات نے شمال مشرقی صومالیہ کے علاقے پنت لینڈ میں اسرائیلی ساختہ جدید ریڈار نظام نصب کر دیا ہے، جس سے قرنِ افریقہ میں ابوظہبی کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اوپن سورس انٹیلیجنس اور فضائی تصویری شواہد کے مطابق اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلٹا (ELTA) — جو اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کی ذیلی ادارہ ہے — کی تیار کردہ ELM-2084 تھری ڈی AESA ملٹی مشن ریڈار کو بوساسو ایئرپورٹ کے قریب نصب کیا گیا ہے، جو یو اے ای کے زیرِانتظام بوساسو ایئر بیس سے متصل ہے۔

یہ ریڈار، جو اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم کا کلیدی جزو ہے، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے سے ہونے والے حملوں کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اس نظام کو یمن سے اسرائیلی اہداف اور بحیرہ احمر و خلیج عدن میں بحری جہازوں کی جانب داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کی نگرانی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

پنت لینڈ میں تعینات صحافیوں کے مطابق یہ اسرائیلی ساختہ ریڈار انتہائی خاموشی سے پنت لینڈ میری ٹائم ہیڈکوارٹرز میں نصب کیا گیا ہے، جو متعدد شعاعوں پر بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بلغیرین ملٹری کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان 2020 کے ابراہام معاہدوں کے بعد قائم ہونے والے وسیع تر سکیورٹی تعاون کا حصہ ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ابوظہبی نے اسرائیل کو وسط 2024 تک صومالیہ کے متنازع علاقے ’صومالی لینڈ‘ میں ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دینے کے بدلے میں اس کے لیے عالمی سطح پر صومالی لینڈ کی علیحدہ حیثیت کو تسلیم کروانے کی سفارتی حمایت کی پیشکش کی ہے۔

پنت لینڈ میں اس ریڈار کی تنصیب — جو صومالی وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے — موغادیشو میں مرکزی حکومت اور نیم خودمختار خطے پنت لینڈ کے درمیان جاری کشیدگی کو نمایاں کرتی ہے۔ یو اے ای کی پنت لینڈ کی قیادت سے براہ راست عسکری معاملات نے ان قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے کہ ابوظہبی اس خطے کی خودمختاری کی خواہش کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ طرزِ عمل سرد جنگ کے دور کی حکمت عملی کی یاد دلاتی ہے، جب عالمی طاقتیں اہم آبی گزرگاہوں تک رسائی کے لیے مقامی دھڑوں کی حمایت کیا کرتی تھیں۔ بحیرہ احمر اور خلیج عدن اسرائیل کے غزہ پر جاری حملوں اور اس کے جواب میں یمن کے حوثی اتحادیوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کے باعث عالمی سطح پر کشیدگی کے نئے مراکز بن چکے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین