اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامینیتن یاہو پر دباؤ بڑھ گیا، دوسرا مرحلہ ناگزیر: موساد کے سابق...

نیتن یاہو پر دباؤ بڑھ گیا، دوسرا مرحلہ ناگزیر: موساد کے سابق سربراہ
ن

موساد کے سابقہ یونٹ برائے مغویان اور لاپتہ افراد کے سربراہ رامی اِگرا نے اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی جو تجویز پیش کی گئی ہے، اسے مزاحمتی تحریک کے لیے ’’اب تک کی سب سے مشکل تجویز‘‘ قرار دیا ہے، جسے حماس ’’کبھی قبول نہیں کرے گی۔‘‘ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز ریڈیو 103 ایف ایم کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔

اِگرا نے کہا: ’’سب سے بڑا سوال، اور شاید اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، یہ ہے کہ اسرائیل نے ایسی تجویز کیوں پیش کی جو بظاہر کوئی بھی قبول نہیں کرے گا؟‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ اس تجویز میں ’’غیر مسلح کیے جانے‘‘ اور ’’بعد از جنگ انتظام‘‘ جیسے نکات شامل ہیں، جبکہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ حماس ابتدا سے اپنی بقا کے لیے لڑ رہی ہے اور ایسے کسی بھی حل پر راضی نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے یہ تجویز اس لیے پیش کی کیونکہ ’’نیتن یاہو کو معلوم ہے کہ وقت ختم ہو رہا ہے، قیدی فوجیوں کے لیے نہیں، بلکہ اس کے اپنے لیے۔‘‘ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ’’ٹرمپ نے جس پریس کانفرنس میں نیتن یاہو کو تنہا چھوڑا، اس میں واضح طور پر کہا کہ جنگ کا اختتام ضروری ہے اور یہ جلدی ختم ہونی چاہیے۔‘‘

اِگرا نے مزید کہا کہ اس معاملے میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ٹرمپ جلد ہی سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں، جو کہ امریکہ میں 1.3 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کر رہا ہے اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کا حل مانگ رہا ہے۔

’’ان تمام حالات کے پیش نظر، نیتن یاہو پر واضح ہے کہ جس طرح انہیں پہلے مرحلے (قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی) پر عمل درآمد کے لیے مجبور کیا گیا، اسی طرح دوسرے مرحلے پر بھی عمل درآمد کے لیے مجبور کیا جائے گا، جس میں مصری حل شامل ہے، یعنی غزہ میں ایک انتظامی کمیٹی کی حکومت۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’ہم جنگ ہار چکے ہیں اور ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا۔‘‘

اِگرا نے نشاندہی کی کہ معاملہ تیزی سے ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، ’’اور نیتن یاہو ایسے وقت میں ’لیبیا جیسے غیر مسلح کیے جانے‘ جیسے جملے اچھال رہے ہیں، جبکہ امریکی ان کی باتوں پر کان نہیں دھرتے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’ہمیں سمجھنا چاہیے کہ نیتن یاہو ہمیں یہاں تک لے آیا ہے جبکہ ہمارے پاس حماس کی حکومت کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ اس نے ڈیڑھ سال ضائع کر دیے، کیونکہ وہ اس حل سے اپنے سیاسی اتحادیوں کے باعث خوفزدہ تھا۔‘‘

اِگرا نے کہا کہ ’’فیصلے کرنے والے درحقیقت امریکی ہیں۔ ٹرمپ سو مختلف میدانوں میں مصروف ہے، اور وہ بالآخر نوبیل امن انعام جیتنا چاہتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا ہدف رکھتا ہے۔‘‘

’’نیتن یاہو اقتدار میں رہنا چاہتا ہے، مگر اس کے لیے اب یہ بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اسے دوسرے مرحلے کو قبول کرنا پڑے گا۔ ذرا سوچیں، وہ ہنگری سے ٹرمپ کے پاس کیسے روانہ ہوا، اور کیسے وہاں سے ایسا واپس آیا جیسے کسی بچے کو ٹرمپ نے ڈانٹ کر بھیج دیا ہو۔‘‘

مقبول مضامین

مقبول مضامین