ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بایو ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کی تیزرفتار پیش رفت امریکہ کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، جو نہ صرف مستقبل کی جنگوں بلکہ عالمی معیشت اور طاقت کے توازن پر بھی دور رس اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان اسٹریٹیجک رقابت کے ایک اہم محاذ — بایو ٹیکنالوجی — کو عوامی سطح پر زیادہ توجہ نہیں ملی، حالانکہ یہ میدان قومی دفاع، معیشت اور عالمی اثر و رسوخ پر گہرا اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جدید جسمانی حفاظتی لباس، ماحول سے ہم آہنگ کیموفلاج، فوجیوں کے لیے لیبارٹری میں تیار کردہ خوراک، اور جینیاتی طور پر بہتر بنائے گئے سپاہی — یہ سب بایو ٹیکنالوجی کی ایسی مثالیں ہیں جو مستقبل کی جنگوں کی نوعیت کو یکسر بدل سکتی ہیں۔
کانگریس کو پیش کی گئی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، چین اس شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس سے امریکہ کو اسٹریٹیجک سطح پر پچھڑنے کا سامنا ہے۔ یہ رپورٹ نیشنل سیکیورٹی کمیشن آن ایمرجنگ بایو ٹیکنالوجی نے تیار کی ہے، جو دو سالہ تجزیے اور مختلف ماہرین، جن میں سینیٹر ٹوڈ ینگ، گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمڈ، اور بایوٹیک و دفاعی صنعت سے وابستہ رہنما شامل ہیں، کی مشاورت سے ترتیب دی گئی ہے۔
سینیٹر ٹوڈ ینگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک پوسٹ میں زور دیا:
"امریکہ کو بایو ٹیکنالوجی کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور چین کو اس صنعت پر غلبہ حاصل کرنے سے روکنا ہوگا۔”
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے تقریباً دو دہائیاں قبل بایو ٹیکنالوجی کو قومی ترجیح بنایا اور اب وہ برق رفتاری سے سبقت لے رہا ہے۔ اس میدان میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے، رپورٹ میں امریکہ کو آئندہ پانچ برسوں کے دوران کم از کم 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجویز دی گئی ہے۔
چین کی بڑھتی ہوئی برتری کو روکنے کے لیے امریکہ پہلے ہی کچھ اقدامات کر چکا ہے۔ گزشتہ ستمبر میں ایوانِ نمائندگان نے BIOSECURE Act منظور کی، جس کا مقصد چینی بایوٹیک کمپنیوں مثلاً Complete Genomics کو وفاقی فنڈنگ سے روکنا ہے۔
رپورٹ میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے نیٹو کے Defense Innovation Accelerator for the North Atlantic (DIANA) جیسے اشتراکی پلیٹ فارمز سے استفادہ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ نیٹو انویشن فنڈ، جو 2021 میں منظور کیا گیا تھا، کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تکنیکی برتری کو فروغ دینا ہے تاکہ اجتماعی سیکیورٹی کو مضبوط کیا جا سکے۔
بایو ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنانا؟
تاہم رپورٹ امریکہ کو خبردار کرتی ہے کہ وہ چین کے ماڈل کی نقالی نہ کرے، کیونکہ وہاں سول اور فوجی بایوٹیک اداروں کے درمیان گہرا انضمام پایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں "ہر طرح کا یقین” پایا جاتا ہے کہ وہ بایو ٹیکنالوجی کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق جس دن چین کی پیپلز لبریشن آرمی جینیاتی طور پر بہتر بنائے گئے سپاہی میدان میں اتارے گی، اس دن ڈرون جنگیں پرانی لگنے لگیں گی۔
سینیٹر ینگ نے بایوٹیکنالوجی کے میدانِ جنگ پر ممکنہ انقلابی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ایسے منظرنامے پیش کیے، جیسے کہ جنگی علاقوں میں مستحکم خون کی سپلائی تیار کرنا یا بایولوجیکل مواد کے ذریعے میزائل کی رینج کو بڑھانا۔
دوسری جانب، روس کی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری الیگزینڈر وینیڈیکٹوف نے 2022 میں انکشاف کیا تھا کہ امریکہ ممکنہ طور پر دنیا بھر میں 400 سے زائد خفیہ بایو لیبارٹریز کا نیٹ ورک رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جب ان بایو لیبارٹریز کی لوکیشن کو ان علاقوں سے موازنہ کیا گیا جہاں نئی وبائیں سامنے آئی ہیں، تو "مشکوک مماثلتیں” دیکھنے کو ملیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کو درپیش ایک بڑی رکاوٹ بایوٹیک مصنوعات کی تیاری کی ناکافی صلاحیت ہے، جبکہ سرمایہ کار اس شعبے میں زیادہ سرمایہ لگانے سے ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ اس میں لاگت زیادہ اور منافع کا دورانیہ طویل ہوتا ہے۔ ایسے میں جب عالمی حریف تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، امریکہ کا پیچھے رہ جانا ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتا ہے۔

