ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز واضح کیا ہے کہ یورینیم کی افزودگی ایران کے ایٹمی پروگرام کا بنیادی جزو ہے اور یہ کسی صورت میں بھی قابلِ مذاکرہ نہیں، یہ بیان امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی جانب سے تہران سے افزودگی روکنے کے مطالبے کے جواب میں سامنے آیا ہے۔
عراقچی نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"ایران کی افزودگی ایک حقیقی اور تسلیم شدہ معاملہ ہے۔ ہم ممکنہ خدشات کے ازالے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات پر آمادہ ہیں، لیکن افزودگی کا مسئلہ ناقابلِ مذاکرہ ہے۔”
یہ بیان ہفتے کو عمان میں وٹکوف کے ساتھ ہونے والے آئندہ اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے، جو ایک ہفتے میں دونوں فریقوں کے درمیان دوسرا براہ راست رابطہ ہوگا۔ یہ بات چیت اس وقت ہو رہی ہے جب 2018 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبرداری اور تہران پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ اعلیٰ ترین سطح کی مصروفیت ہے۔
جنوری میں دوبارہ منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد، ٹرمپ نے ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کو ایک خط لکھا، جس میں مذاکرات کی پیشکش کی گئی لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کیا گیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی ممکن ہے۔
اگرچہ دونوں فریقین نے گزشتہ مذاکرات کو "تعمیری” قرار دیا تھا، تاہم وٹکوف کی جانب سے منگل کے روز ایران سے افزودگی "روکنے اور ختم کرنے” کے بیان کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بیان ان کے پچھلے مؤقف سے ہٹ کر تھا جس میں صرف اس بات کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران 2015 کے معاہدے کے تحت 3.67 فیصد افزودگی کی حد تک واپس آجائے۔
عراقچی نے امریکی انتظامیہ کے "متضاد اور غیر مستقل مؤقف” پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران آنے والے مذاکرات میں واشنگٹن کے حقیقی مؤقف کا جائزہ لے گا۔
انہوں نے کہا:
"اگر ہمیں مسلسل متضاد اور غیر واضح بیانات سننے کو ملتے رہے، تو مذاکرات میں سنجیدہ رکاوٹیں پیش آئیں گی۔”
’اعتماد کا فقدان برقرار ہے‘
ایرانی رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای نے منگل کے روز کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں جاری بالواسطہ مذاکرات ابتدائی طور پر مؤثر رہے ہیں، تاہم اسلامی جمہوریہ کو فریقِ مخالف پر شدید عدم اعتماد ہے۔
انہوں نے کہا:
"ہم نہ حد سے زیادہ پرامید ہیں، نہ ہی حد سے زیادہ مایوس۔ البتہ ہمیں دوسرے فریق پر شدید بے اعتمادی ہے۔”
یہ بات انہوں نے اسلامی جمہوریہ کی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
رہبر اعلیٰ نے وضاحت کی کہ یہ مذاکرات وزارتِ خارجہ کی جانب سے کی جانے والی متعدد سرگرمیوں میں سے ایک ہیں، اور یہ ایک فیصلہ شدہ و نافذالعمل اقدام ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ کو اپنے اندرونی معاملات کو مذاکرات سے مشروط نہیں کرنا چاہیے، اور ملک کو اپنی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔
"ہمیں ملکی معاملات کو مذاکرات سے نہ جوڑنا چاہیے،” انہوں نے کہا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تہران کو مذاکرات پر بے حد شکوک ہیں لیکن اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔
یہ بیانات گزشتہ ہفتے مسقط میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئے، جن میں عمان کے وزیر خارجہ ثالث کا کردار ادا کر رہے تھے۔

