اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیبیروت میں اسرائیلی یورینیم بموں کی نوعیت: سائنسی شواہد کی روشنی میں

بیروت میں اسرائیلی یورینیم بموں کی نوعیت: سائنسی شواہد کی روشنی میں
ب

تحریر: ڈاکٹر کرس بسبي

ڈاکٹر کرس بسبي نے دعویٰ کیا ہے کہ 27 ستمبر 2024 کو بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی بم میں یورینیم کا استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق، اس بم کے اثرات سے فضا میں تابکار ذرات پائے گئے ہیں جو طویل المدت صحت عامہ کے خطرات کو جنم دے سکتے ہیں۔

ڈاکٹر بسبي کی تحقیقاتی تنظیم "گرین آڈٹ” 2006 سے عراق، غزہ اور لبنان میں جنگی علاقوں میں یورینیم سے بنے ہتھیاروں کے استعمال کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق، 1991 سے اسرائیل اور امریکہ ایک نئے قسم کے جوہری ہتھیار استعمال کر رہے ہیں جن میں "Enriched Uranium” (یورینیم 235 کی زیادہ مقدار والا یورینیم) موجود ہوتا ہے۔

حال ہی میں، پروفیسر جہاد عبود، ڈاکٹر رابرٹ ڈیلی اور صحافی یوان انور ساویبی کی معاونت سے، ضاحیہ بیروت میں حملے کی جگہ سے مٹی کے نمونے حاصل کیے گئے جن کا تجزیہ ایک نئے سائنسی طریقے سے کیا گیا۔ ان نمونوں سے ظاہر ہوا کہ مٹی میں "ہاٹ پارٹیکلز” یعنی انتہائی تابکار یورینیم ذرات موجود تھے۔ ان ذرات کا سائز ایک مائیکرون کے قریب ہے، یعنی انسانی خلیوں سے کہیں چھوٹے، لیکن تابکاری کے اثرات کے لحاظ سے انتہائی خطرناک۔

یورینیم بموں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی زبردست حرارت یورینیم کو بخارات میں تبدیل کرتی ہے جو بعد ازاں یورینیم آکسائیڈ کے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ ذرات جب سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں تو پھیپھڑوں، گردوں اور دیگر اعضاء میں جمع ہو کر ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں، جو سرطان اور دیگر مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر بسبي کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ہتھیار ماضی میں بھی فلوجہ، غزہ اور جنوبی لبنان میں استعمال ہو چکے ہیں، اور ان علاقوں میں بچوں اور نوجوانوں میں سرطان اور پیدائشی نقائص کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ایک نئی قسم کا جوہری ہتھیار ہے جو کم تابکار اثرات کے ساتھ ہدف کو نشانہ بناتا ہے—ایک طرح کا "صاف بم”۔

بیروت حملے کے مقام پر کیے گئے تابکاری کے پیمائش بھی اس تحقیق کی تائید کرتے ہیں۔ حملے کے 12 ہفتے بعد، ڈاکٹر جہاد عبود نے اس مقام پر پس منظر کی سطح سے تین گنا زیادہ تابکاری (300nSv/h) ریکارڈ کی۔ ماضی میں جنوبی لبنان کے علاقے خیام میں بھی اسی قسم کے شواہد ملے تھے جہاں بعد ازاں افزودہ یورینیم دریافت ہوا۔

مزید برآں، تحقیق سے ایک نیا اور تشویشناک انکشاف یہ ہوا ہے کہ تابکار ذرات مٹی سے خود بخود فضا میں شامل ہو سکتے ہیں اور پھر قریبی فضا میں سفر کرتے ہوئے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرات ناقابل تحلیل ہوتے ہیں اور جسم میں برسوں رہ سکتے ہیں، جس سے مسلسل مقامی تابکاری ہوتی رہتی ہے۔

ڈاکٹر بسبي کے مطابق، اسرائیلی بموں کے باقیات ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ یورینیم جیسے تابکار مواد کا استعمال نہ صرف انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان شواہد کی بنیاد پر ان ہتھیاروں کو جنگی جرائم کے زمرے میں لایا جانا چاہیے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین