اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 15 برس بعد سفارتی مشاورت بحال،...

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 15 برس بعد سفارتی مشاورت بحال، ڈھاکا میں اعلیٰ سطحی اجلاس
پ

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دو طرفہ سفارتی مشاورت کا عمل تقریباً ڈیڑھ دہائی کے تعطل کے بعد بحال ہو گیا ہے، جس کا پہلا اجلاس آج (جمعرات) ڈھاکا میں منعقد ہو رہا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق، اس اجلاس میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے دفاتر کے اعلیٰ حکام شرکت کر رہے ہیں، جن کی قیادت متعلقہ خارجہ سیکریٹریز کریں گے۔ پاکستان کی خارجہ سیکریٹری آمنہ بلوچ اس اجلاس میں شرکت کے لیے گزشتہ روز ڈھاکا پہنچ چکی ہیں۔

بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مشاورتی اجلاس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی حالات اور دو طرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق، رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کے دورۂ بنگلہ دیش کا بھی امکان ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیشی روزنامہ دی ڈیلی اسٹار نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ برس 5 اگست کو عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد، اسلام آباد اور ڈھاکا کے درمیان سفارتی فضا میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف اور عبوری وزیر اعظم محمد یونس کے درمیان دو اہم ملاقاتیں ہو چکی ہیں؛ پہلی ملاقات ستمبر 2023 میں نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر، جبکہ دوسری ملاقات دسمبر میں قاہرہ میں ڈی-ایٹ سربراہی اجلاس کے دوران ہوئی۔

ان سفارتی پیش رفتوں کے نتیجے میں بنگلہ دیش نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کی ہے اور دونوں ممالک کے مابین براہ راست شپنگ کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ ثقافتی تبادلوں، تجارتی روابط، سیاحت اور سرمایہ کاری کے میدانوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اسی سلسلے میں "پاکستان-بنگلہ دیش جوائنٹ بزنس کونسل” کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان میں تعینات بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر اقبال حسین خان نے کہا ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش کو اپنی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے ایک اہم منڈی سمجھتا ہے، خاص طور پر ان صورتوں میں جب مصنوعات کی قیمتیں مسابقتی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کپاس، چینی، چاول اور گندم جیسی اجناس برآمد کرنے کا خواہاں ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2023-24 کے دوران بنگلہ دیش نے پاکستان کو 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے زائد کی برآمدات کیں، جبکہ پاکستان سے 6 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کیں۔

اقبال حسین خان نے مزید کہا کہ پاکستان، افغانستان اور ایران کے لیے ایک گیٹ وے کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے، اس لیے ڈھاکا پاکستان کے زمینی راستے سے ان ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کرنے کے امکانات پر بھی غور کر رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی رابطوں کے قیام پر بھی بات چیت جاری ہے، جو باہمی روابط کو مزید وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین