مستونگ: بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے بدھ کے روز مستونگ کے لک پاس میں جاری اپنی جماعت کے 20 روزہ دھرنے کے اختتام کا اعلان کر دیا۔ یہ احتجاج بلوچ حقوق کے کارکنان، بالخصوص بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف شروع کیا گیا تھا، جس کے باعث کوئٹہ-کراچی اور کوئٹہ-تافتان شاہراہوں پر تجارتی اور ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔
اختر مینگل نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ عوام کی مزید پریشانی سے بچاؤ کے لیے کیا گیا، کیونکہ شاہراہوں کی بندش کے باعث ملکی معیشت کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔ دھرنے کے دوران پاک-ایران سرحد پر ایل پی جی ٹینکروں سمیت 1200 سے زائد مال بردار گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے یومیہ مالی نقصان کروڑوں میں بتایا ہے۔ تاہم، اختر مینگل نے واضح کیا کہ انصاف اور احتساب کے مطالبات ترک نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی اب دھرنے کی بجائے بلوچستان بھر میں جلسے جلوسوں کے ذریعے اپنے مطالبات اجاگر کرے گی۔ اس سلسلے میں پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس 18 اپریل کو کوئٹہ میں طلب کر لیا گیا ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جا سکے۔ اختر مینگل نے عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا تاکہ بلوچستان کے آئینی حقوق اور دیرینہ مسائل سے متعلق شعور اجاگر کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ یہ احتجاج اُس وقت شروع ہوا تھا جب کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ کے دوران ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور دیگر 16 کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ مظاہرین نے چند روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اپنے تین ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ ان گرفتاریوں اور دھرنوں پر کریک ڈاؤن نے وسیع پیمانے پر بے چینی کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں طویل دھرنے کا آغاز ہوا۔
گزشتہ ہفتے، بی این پی (مینگل) نے کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی، جس میں نو قراردادیں منظور کی گئیں۔ ان میں 1948 کے معاہدۂ الحاق کے تحت بلوچستان کے آئینی حقوق کے نفاذ اور صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے قومی سطح پر مکالمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اختر مینگل کا کہنا ہے کہ اگرچہ دھرنا ختم ہو چکا ہے، لیکن بلوچ عوام کے لیے انصاف اور احتساب کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔

