اسلام آباد – وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بدھ کے روز چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے صحت کے نظام میں ایک انقلابی قدم، "ون پیشنٹ، ون آئی ڈی” کے وژن کے تحت اہم پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔نادرا کے حکام کے ساتھ مشترکہ اجلاس کے دوران وزیر صحت نے اعلان کیا کہ اب قومی شناختی کارڈ نمبر پورے ملک میں مریضوں کے لیے یونائیٹڈ میڈیکل ریکارڈ (MR) نمبر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔وزیر صحت کا کہنا تھا:”پاکستان کے صحت کے نظام میں مریضوں کی طبی تاریخ کا کوئی جامع ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ ہم اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک یکساں MR نمبر متعارف کروا رہے ہیں۔ نادرا، جو پاکستان کا سب سے بڑا ڈیٹا بینک ہے، اس منصوبے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔”اس نئے نظام کا مقصد مریضوں کے میڈیکل ریکارڈز کو مرکزیت دینا ہے تاکہ ملک بھر کے کسی بھی کونے میں موجود ڈاکٹرز کسی بھی وقت مریض کی طبی تاریخ تک فوری رسائی حاصل کر سکیں۔ وزیر کے مطابق، یہ اقدام خاص طور پر ہنگامی صورتِ حال اور دور دراز علاقوں میں علاج کے تسلسل اور معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے، وزیر صحت نے مزید کہا:”وزارتِ صحت اور نادرا مل کر ٹیلی میڈیسن کے ذریعے علاج کی سہولیات عوام کی دہلیز تک پہنچائیں گے۔ اب ڈاکٹر اور ادویات جدید ٹیکنالوجی کی بدولت مریضوں تک وہیں پہنچیں گی جہاں وہ موجود ہوں گے۔”یہ منصوبہ صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے، جو تمام شہریوں کے لیے یکساں اور مؤثر طبی خدمات کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔انہوں نے پاکستان کے صحت کے نظام کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی بھی کی۔ وزیر صحت نے کہا:
"آبادی میں مسلسل اضافہ اور طبی سہولیات پر بڑھتا ہوا دباؤ ہمارے صحت کے مراکز کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ 70 فیصد مریض بنیادی طبی مراکز کو چھوڑ کر براہِ راست بڑے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔”
انہوں نے صحت کے شعبے کو فوری طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا:
"ڈیجیٹل ہیلتھ کو فروغ دے کر ہم اپنے صحت کے نظام کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم روایتی طریقوں سے آگے بڑھیں اور ڈیجیٹل ہیلتھ کو اپنی پالیسیوں کا حصہ بنائیں۔”
"ون پیشنٹ، ون آئی ڈی” کا یہ منصوبہ صحت کی سہولیات کو جدید بنانے اور ہر شہری کے لیے مساوی طبی رسائی کو یقینی بنانے کی جاری کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

