اتوار, فروری 15, 2026
ہوممضامینیروشلم-میٹا گٹھ جوڑ: فلسطینی آوازوں کو دبانے کی منظم مہم

یروشلم-میٹا گٹھ جوڑ: فلسطینی آوازوں کو دبانے کی منظم مہم
ی

تحریر: مریم قره‌قزلو

اکتوبر 2023 کے بعد حال ہی میں افشا ہونے والے اندرونی ڈیٹا نے ظاہر کیا ہے کہ میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی) نے اسرائیلی حکومت کی 94 فیصد ہٹانے کی درخواستوں پر عمل درآمد کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کمپنی نے منظم طریقے سے ان مواد کو دبایا جو اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی پر تنقید کرتے تھے۔

یہ معلومات ڈیجیٹل حقائق افشاکاروں نے ’ڈراپ سائٹ‘ ویب سائٹ کو فراہم کیں، جن میں میٹا کی ’انٹیگریٹی آرگنائزیشن‘ کی کارروائیوں کو بے نقاب کیا گیا۔ یہ تنظیم اپنے پلیٹ فارمز پر ’محفوظیت‘ اور ’اصلیت‘ کو یقینی بنانے کا دعویٰ کرتی ہے۔

ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ مواد ہٹانے کی درخواستیں بھیجتا ہے، ان میں غیرمعمولی اثر رکھتا ہے—اس کے صرف 1.3 فیصد TDRs (تھرو ڈاؤن ریکویسٹ) اسرائیلی صارفین پر لاگو ہوتے ہیں۔

میٹا نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اوسطاً 30 سیکنڈ میں 90,000 سے زائد پوسٹس حذف کیں۔ خودکار نظام کے ذریعے کی گئی کارروائیوں کی تعداد تقریباً 38.8 ملین تک جا پہنچی، جس کا دائرہ کار خصوصاً عرب اور مسلم اکثریتی ممالک کے صارفین پر مرکوز تھا، جیسے مصر، اردن، فلسطین، الجزائر، یمن، تیونس، مراکش، سعودی عرب، لبنان، عراق، شام، اور ترکی۔

سینسرشپ میں پوسٹس کو حذف کرنا، اکاؤنٹس کو معطل کرنا، اور ’شیڈو بین‘ شامل ہیں، جن کے ذریعے اسرائیلی حکومت پر تنقید کرنے والے مواد کی رسائی کو محدود کیا جاتا ہے۔

اندرونی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکومت کو دیگر ریاستوں کے مقابلے میں خصوصی رعایت حاصل ہے: اس کی ہٹانے کی درخواستیں بغیر کسی انسانی جائزے کے نافذ کی جاتی ہیں، جبکہ ان کا ڈیٹا میٹا کے AI ماڈل کو تربیت دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مستقبل میں فلسطینی حامی مواد کی خودکار سنسرشپ میں اضافے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق میٹا کی انٹیگریٹی آرگنائزیشن کے سربراہ گائے روزن ہیں، جو اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس یونٹ 8200 کے سابق افسر ہیں۔ پالیسی آرگنائزیشن کے سربراہ جوئل کیپلن ہیں، جو بش انتظامیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ آن لائن "اشتعال انگیزی” کے خلاف کام کرتے رہے ہیں۔

میٹا کی اسرائیل اور یہودی ڈائسپورا کے لیے پبلک پالیسی ڈائریکٹر جورڈانا کٹلر سابق اسرائیلی سرکاری افسر اور وزیر اعظم نیتن یاہو کی مشیر رہ چکی ہیں۔ وہ فلسطینی حامی مواد کو فلیگ کرنے کے لیے اپنی پوزیشن استعمال کرتی رہی ہیں۔

فلسطینی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم "7املہ” کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ بڑی ٹیک کمپنیوں نے سنسرشپ اور معلومات کے دباؤ کے ذریعے اسرائیلی اقدامات میں غیر مستقیم طور پر مدد دی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ میٹا اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اکتوبر 2023 سے ستمبر 2024 کے درمیان 5,100 سے زائد سنسرشپ کیسز درج کیے گئے۔

متعدد انسٹاگرام صارفین نے شکایت کی کہ ان کے فلسطین سے متعلق مواد پر شیڈو بین لگا دیا گیا۔ مثال کے طور پر فلسطینی نژاد امریکی فلم ساز خطام جبر کو انسٹاگرام نے صرف اس وجہ سے 24 گھنٹے تک پوسٹ یا لائیو جانے سے روک دیا کہ انہوں نے ویسٹ بینک کے سفر کی ویڈیوز اپلوڈ کی تھیں۔

بہت سے صارفین نے کہا کہ اگر وہ اپنے فلسطینی مواد میں اسرائیل کے ہیش ٹیگ شامل کریں تو ان کے پوسٹس کی رسائی بڑھ جاتی ہے۔

7املہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی پرچم کا ایموجی استعمال کرنے پر بھی انسٹاگرام تبصروں کو چھپا رہا تھا، اور بعض تبصرے "غیر اخلاقی” قرار دے کر نیچے منتقل کیے جاتے تھے، جنہیں دیکھنے کے لیے صارف کو "مزید دیکھیں” پر کلک کرنا پڑتا تھا۔

میٹا نے کچھ پوسٹس کو "ننگے پن یا جنسی سرگرمی” کے ضوابط کی خلاف ورزی قرار دے کر ہٹایا، حالانکہ ان تصاویر میں صرف اسپتال پر بمباری کے بعد کے مناظر تھے۔

ایک اور سنگین مثال میں، فیس بک نے ’قدس نیوز نیٹ ورک‘ کا صفحہ مکمل طور پر حذف کر دیا، جس کے تقریباً ایک کروڑ فالوورز تھے۔

2024 کے آخر میں فیس بک کے ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ فلسطینی خبروں سے وابستہ اداروں کی پوسٹس پر مشغولیت میں 77 فیصد کمی آئی، جبکہ اسرائیلی خبروں کے اداروں کی مشغولیت میں 37 فیصد اضافہ ہوا۔

ان تمام شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ میٹا کے پلیٹ فارمز فلسطینی آوازوں کو دبانے اور اسرائیلی حکومت کے بیانیے کو بڑھاوا دینے میں ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے سوشل میڈیا پر آزادیِ اظہار اور معلومات تک رسائی کے عالمی اصولوں کی شدید خلاف ورزی ہوتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین