اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامییونیورسٹی آف کولمبیا کے فلسطین حامی طالبعلم کو شہریت کے انٹرویو کے...

یونیورسٹی آف کولمبیا کے فلسطین حامی طالبعلم کو شہریت کے انٹرویو کے دوران گرفتار کر لیا گیا
ی

نیویارک شہر میں قائم اعلیٰ تعلیمی ادارے کولمبیا یونیورسٹی میں اسرائیل کے غزہ پر سفاک حملوں کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک اور فلسطین حامی طالبعلم کو امریکی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں اسرائیل مخالف مظاہروں کی بڑھتی ہوئی کریک ڈاؤن مہم کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔

محسن مہداوی، جو کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینی حامی احتجاجی سرگرمیوں کے منتظم ہیں، پیر کے روز اُس وقت امیگریشن حکام کے ہاتھوں گرفتار ہوئے جب وہ امریکی شہریت کے حصول کے لیے ایک انٹرویو میں شریک تھے۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو افسران، جو پولیس کی جیکٹس پہنے ہوئے ہیں، انہیں ایک گاڑی میں لے جا رہے ہیں۔

محسن مہداوی، جن کے پاس امریکی گرین کارڈ ہے اور جو اگلے ماہ کولمبیا یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے والے ہیں، ریاست ورمونٹ کے شہر کولچیسٹر میں گرفتار کیے گئے۔ ان کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ گرفتاری غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف ان کے احتجاجی کردار کے سبب کی گئی ہے۔

محسن کے وکیل لونا دروبی کا کہنا تھا:
"ٹرمپ انتظامیہ نے محسن مہداوی کو فلسطینی عوام کی حمایت میں سرگرم ہونے اور فلسطینی شناخت رکھنے کے سبب انتقامی طور پر گرفتار کیا ہے۔ ان کی گرفتاری ان آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے جو غزہ میں ہونے والے مظالم کے خلاف اُٹھ رہی ہیں، اور یہ اقدام آئین کے بھی منافی ہے۔”

محسن کے وکیل نے وفاقی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ امیگریشن حکام کو ورمونٹ سے انہیں منتقل کرنے یا ملک بدر کرنے سے روکا جائے۔

ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے تین امریکی قانون سازوں — سینیٹر پیٹر وِلچ، رکن کانگریس بیکا بالِنٹ (دونوں ڈیموکریٹس) اور سینیٹر برنی سینڈرز (آزاد) — نے اس گرفتاری کو "غیراخلاقی، غیر انسانی اور غیر قانونی” قرار دیا۔

قانون سازوں نے ایک بیان میں کہا:
"انہیں ہتھکڑی لگا کر سادہ لباس میں ملبوس، مسلح اور چہرہ ڈھانپے ہوئے افراد نے گرفتار کیا، جنہوں نے یہ تک نہیں بتایا کہ وہ محسن کو کہاں لے جا رہے ہیں یا ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ محسن مہداوی، جو امریکہ میں قانونی طور پر مقیم ہیں، کو آئینی طریقہ کار کے مطابق فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔”

سینیٹر سینڈرز نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان میں کہا:
"محسن مہداوی کو اس وقت غیر قانونی طور پر ICE (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) نے حراست میں لیا جب وہ شہریت کے عمل کے آخری مرحلے میں شریک تھے۔ انہیں قانونی طریقہ کار کے تحت فوری طور پر رہا کیا جائے۔”

محسن مہداوی مغربی کنارے میں قائم ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے اور 2014 میں امریکہ منتقل ہوئے۔ وہ کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینی طلبہ کی سوسائٹی کے بانی ارکان میں سے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دسمبر CBS کے مشہور پروگرام "60 منٹس” میں انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیلی مظالم کو بے نقاب کیا تھا۔

محسن کو جبری ملک بدری کا سامنا ہے، اور وہ ان درجنوں طلبہ میں شامل ہو چکے ہیں جن میں محمود خلیل، رومیسہ اوزترک اور علی رضا درودی شامل ہیں، جو مختلف امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں مظاہروں کی پاداش میں زیرِ حراست ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ تمام غیر ملکی طالبعلموں کو ملک بدر کریں گے جو فلسطینی حمایت میں مظاہروں سے منسلک ہیں۔ گزشتہ موسمِ بہار میں امریکی کالجوں میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے جاری رہے تھے۔

کریک ڈاؤن اُس وقت مزید سخت ہو گیا جب 8 مارچ کو کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ محمود خلیل کو گرفتار کر کے لوزیانا کے ایک امیگریشن حراستی مرکز میں منتقل کر دیا گیا۔ اُن پر بھی فلسطینی حمایت میں احتجاجات میں حصہ لینے کے سبب ملک بدری کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جنہوں نے محمود خلیل کی گرفتاری کی منظوری دی تھی، نے حالیہ بیان میں کہا کہ واشنگٹن نے کم از کم 300 غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ان طلبہ پر امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے خلاف ہونے کا الزام عائد کیا ہے، خاص طور پر اسرائیل کے فلسطینیوں پر مہینوں سے جاری جنگی جرائم کی مذمت کرنے پر۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی جارحیت میں اب تک کم از کم 50,983 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے، جب کہ 116,274 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین