اسرائیلی فوج کے ایک انفنٹری بریگیڈ، گولانی بریگیڈ، کے اہلکاروں نے غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی کے لیے فوری مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک خط پر دستخط کیے ہیں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے اندر جنگ کے خلاف پے در پے درخواستیں سامنے آ رہی ہیں۔
اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق، گولانی بریگیڈ کے 150 فوجیوں نے اس خط پر دستخط کیے ہیں جس میں غزہ میں قید اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے فوری مذاکرات پر زور دیا گیا ہے۔
جمعرات سے اب تک غزہ پر حملوں کے خلاف کم از کم دس ایسی درخواستیں گردش کر رہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ تل ابیب حکومت کو جنگ کے بجائے قیدیوں کی واپسی کو ترجیح دینی چاہیے، چاہے اس کے لیے جنگ بند ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
پہلی درخواست اسرائیلی فضائیہ کے تقریباً ایک ہزار موجودہ اور سابقہ ریزرو اہلکاروں نے دستخط کی، جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ پر حملہ "بنیادی طور پر سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے ہے، نہ کہ سلامتی کے لیے”۔ یہ براہ راست اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر تنقید تھی، جو فلسطینیوں کے خلاف جاری سفاک نسل کشی کے حق میں جنگ جاری رکھنے پر بضد ہیں۔
اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر اور ایئر فورس نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے ان ریزرو اہلکاروں کو برطرف کر دیا جنہوں نے مذکورہ درخواست پر دستخط کیے تھے۔ نیتن یاہو نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست "کچھ انتہا پسند عناصر کی کارستانی ہے جنہیں بیرونی فنڈنگ حاصل ہے” اور ان کا مقصد "حکومت کا تختہ الٹنا” ہے۔
دیگر علیحدہ درخواستوں پر 150 ریٹائرڈ نیول افسران، یونٹ 8200 کے 250 سے زائد ریزرو اہلکاروں اور سابق فوجیوں، اور 1,525 آرمورڈ کور کے سابق اہلکاروں نے دستخط کیے ہیں، جن میں سابق وزیر اعظم اور چیف آف اسٹاف ایہود باراک بھی شامل ہیں۔
اسی طرح اسرائیل کی ہائی ٹیک صنعت سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 سرمایہ کاروں، تاجروں اور ملازمین، 2,000 فوجی ڈاکٹروں اور 6,000 سے زائد ماہرین تعلیم اور تدریسی عملے نے بھی جنگ کے خلاف خطوط تحریر کیے ہیں۔
اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسیوں موساد اور شِن بیت کے درجنوں سابق اہلکاروں کے علاوہ اسرائیلی فوج کی انفنٹری، پیرا ٹروپرز اور اسپیشل فورسز کے 1,500 سے زائد سابقہ فوجی بھی اس احتجاجی مہم میں شامل ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر بمباری کا آغاز اُس وقت کیا جب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مقبوضہ فلسطین میں ایک تاریخی کارروائی کی، جو اسرائیلی مظالم کے ردعمل میں کی گئی تھی۔
اس کارروائی میں حماس نے 251 اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا، جن میں سے اب 58 غزہ میں موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں سے کم از کم 34 کی لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے۔ کئی قیدی اسرائیلی بمباری میں مارے جا چکے ہیں۔
ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تل ابیب حکومت نہ تو حماس کا خاتمہ کر سکی ہے اور نہ ہی قیدیوں کو رہا کرا سکی ہے، جب کہ غزہ میں اب تک 50,983 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

