اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیبنگلہ دیش میں عوامی دباؤ پر پاسپورٹ میں ’اسرائیل کے لیے کارآمد...

بنگلہ دیش میں عوامی دباؤ پر پاسپورٹ میں ’اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں‘ کی شق دوبارہ شامل
ب

ڈھاکا: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر اپنے پاسپورٹ میں "اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں” کی شق دوبارہ شامل کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک بھر میں فلسطین کے حق میں جاری احتجاجی مظاہروں اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو کو دیے گئے انٹرویو میں بنگلہ دیشی وزارت داخلہ کی نائب سیکریٹری نیلیما افروز نے تصدیق کی کہ 7 اپریل کو جاری کردہ ایک حکم نامے کے ذریعے امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ پاسپورٹ میں اس شق کو بحال کیا جائے جس میں درج ہے کہ "یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے”۔ یہ اقدام مشیر داخلہ جہانگیر عالم چوہدری کی منظوری کے بعد باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے 2021 میں بین الاقوامی معیارات کو بنیاد بناتے ہوئے یہ شق پاسپورٹ سے حذف کر دی تھی، جس پر ملک بھر میں سخت عوامی ردِعمل سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں اگست 2024 میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا تھا۔ ان پر یہ الزامات بھی عائد کیے گئے تھے کہ انہوں نے اسرائیلی اسپائی ویئر کے ذریعے حزب اختلاف کی نگرانی کی، حالانکہ بنگلہ دیش نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کیا۔

اگرچہ حکام کی جانب سے مسلسل یہ وضاحت دی جاتی رہی کہ اسرائیل کا سفر بدستور ممنوع ہے، تاہم پاسپورٹ سے متعلق عبارت کی عدم موجودگی نے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا۔

حالیہ مہینوں میں جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں میں شدت آئی، تو بنگلہ دیشی عوام میں اس شق کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ گزشتہ ہفتے دارالحکومت ڈھاکا میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلی میں لاکھوں افراد شریک ہوئے، جسے ملک کی سب سے بڑی فلسطین نواز ریلی قرار دیا جا رہا ہے۔ ریلی کے اعلامیے میں دیگر مطالبات کے ساتھ پاسپورٹ میں اسرائیل مخالف شق کی بحالی کو بھی مرکزی مطالبہ قرار دیا گیا۔

ادھر فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 51 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اسرائیل نے 18 مارچ کو ایک بار پھر غزہ پر فضائی حملے شروع کر دیے، حالانکہ جنوری میں فریقین کے مابین ایک جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔ صرف حالیہ حملوں میں 1,574 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے گزشتہ سال نومبر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین