یونیورسٹی کی جانب سے مطالبات ماننے سے انکار پر کارروائی، معاملہ فلسطین کے حق میں مظاہروں سے منسلک
واشنگٹن:
ٹرمپ انتظامیہ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے لیے مختص 2.2 ارب ڈالر کے وفاقی فنڈز منجمد کر دیے گئے ہیں۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب ہارورڈ نے انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا، جس میں یونیورسٹی کو کیمپس پر فلسطین کے حق میں مظاہروں سے منسلک مبینہ یہود مخالف واقعات پر دھمکایا گیا تھا۔
یہ فیصلہ "جوائنٹ ٹاسک فورس ٹو کومبیٹ اینٹی سیمیٹزم” کی جانب سے سامنے آیا، جس میں محکمہ انصاف، محکمہ تعلیم سمیت دیگر وفاقی ادارے شامل ہیں۔ ٹاسک فورس کے مطابق، ہارورڈ کے لیے 2.2 ارب ڈالر کے طویل المدتی گرانٹس اور 60 ملین ڈالر کے کنٹریکٹس منجمد کیے جا رہے ہیں۔
تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ گرانٹس کن منصوبوں سے متعلق تھیں۔
ہارورڈ کے وکلا نے محکمہ تعلیم کو فنڈز کی منجمدی سے قبل ایک خط میں لکھا: "نہ ہارورڈ اور نہ ہی کوئی دیگر نجی یونیورسٹی خود کو وفاقی حکومت کے زیرِ تسلط آنے دے سکتی ہے۔”
گزشتہ ماہ متعدد اداروں نے ہارورڈ کے لیے دیے گئے 9 ارب ڈالر کے حکومتی فنڈز کا جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا یونیورسٹی وفاقی قوانین کی پاسداری کر رہی ہے، خصوصاً یہودی طلبا سے متعلق شکایات اور فلسطین کے حق میں مظاہروں کے دوران انتظامیہ کے ردعمل کے تناظر میں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے 11 اپریل کو ہارورڈ کو ایک فہرست ارسال کی، جس میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا—جس میں گورننس، داخلوں اور بھرتیوں کے عمل میں تبدیلیاں شامل تھیں—اور مطالبہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کو انتظامیہ کی نگرانی میں لایا جائے۔
ہارورڈ کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی کیمپس میں یہود مخالف رجحانات کے خلاف اقدامات جاری رکھے گی، تاہم وہ ایسے مطالبات ماننے کو تیار نہیں جو "اس یا کسی بھی انتظامیہ کے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہیں۔”
ہارورڈ کے صدر ایلن گاربر نے کہا کہ حالیہ مطالبات نہ صرف انتظامیہ کے اختیارات سے باہر ہیں بلکہ یہ یونیورسٹی کی پہلی آئینی ترمیم کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا، "کوئی بھی حکومت—خواہ وہ کسی بھی جماعت سے ہو—نجی جامعات کو یہ نہیں بتا سکتی کہ وہ کیا پڑھائیں، کس کو داخلہ دیں اور کس کو ملازمت دیں۔”
اہم بیان:
گاربر نے مزید کہا: "یہ واضح ہو گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد ہمارے ساتھ تعمیری اور تعاون پر مبنی انداز میں یہود مخالف رجحانات کا حل نکالنا نہیں، بلکہ مطالبات کی اکثریت ہارورڈ میں ‘علمی ماحول’ پر براہ راست حکومتی کنٹرول کو ظاہر کرتی ہے۔”
ہارورڈ کا سرمایہ کاری فنڈ کتنا ہے؟
ہارورڈ یونیورسٹی کا سرمایہ کاری فنڈ 2024 میں 9.6 فیصد منافع کے بعد 53.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ امریکہ کی کسی بھی یونیورسٹی کا سب سے بڑا سرمایہ کاری فنڈ ہے، جس کے بعد ییل یونیورسٹی (42 ارب ڈالر) اور یونیورسٹی آف ٹیکساس سسٹم (40 ارب ڈالر) ہیں۔
اور کون سی جامعات زیرِ تفتیش ہیں؟
مارچ میں ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کی 60 جامعات کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا، جس میں یہودی طلبا سے امتیازی سلوک کے الزامات شامل ہیں۔ محکمہ تعلیم کے دفتر برائے شہری حقوق نے متنبہ کیا تھا کہ اگر تعلیمی ادارے "ٹائٹل VI” کے تحت نسلی، رنگ یا قومی بنیاد پر امتیاز کی روک تھام میں ناکام پائے گئے، تو انہیں وفاقی فنڈنگ سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی ان ابتدائی پانچ اداروں میں شامل ہے جن کے خلاف تحقیقات شروع ہوئیں، اور اس کے 400 ملین ڈالر کے وفاقی فنڈز منسوخ کیے گئے، جبکہ پرنسٹن، کارنیل اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹیوں کے تحقیقاتی معاہدے بھی معطل کیے گئے۔
پس منظر:
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال کے آغاز میں ایک کثیرالاداری ٹاسک فورس قائم کی تاکہ امریکی جامعات میں یہودی طلبا کے خلاف امتیازی سلوک اور ہراسانی کی شکایات کی تحقیقات کی جا سکیں۔ اس اقدام کا آغاز ان مظاہروں کے بعد ہوا جن میں اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائی کے خلاف طلبا نے احتجاج کیا اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل یا اسرائیلی اداروں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں سے مالی تعلق ختم کریں۔
گزشتہ ماہ، وزیر تعلیم لنڈا مک میہن نے ہارورڈ پر یہودی طلبا کی حفاظت میں ناکامی اور "تفرقہ انگیز نظریات کو آزاد تحقیق پر ترجیح دینے” کا الزام عائد کیا۔ گاربر نے خبردار کیا کہ وفاقی فنڈنگ کے خاتمے سے "جان بچانے والی تحقیق متاثر ہو سکتی ہے اور سائنسی اختراعات کو شدید خطرہ لاحق ہو گا۔”
اس کے علاوہ، انتظامیہ نے احتجاج سے منسلک طلبا کے ویزے منسوخ کیے، انہیں حراست میں لیا، اور ملک بدر کرنے کی کارروائیاں شروع کیں۔ ان میں کولمبیا یونیورسٹی کا طالب علم محمود خلیل بھی شامل ہے، جسے رواں مارچ میں قانونی ویزہ رکھنے کے باوجود گرفتار کیا گیا، اور ایک جج نے حالیہ فیصلہ میں اس کی ملک بدری کی اجازت دے دی ہے۔

