اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اُس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے، جس میں انہوں نے "حماس کے بغیر” فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی تھی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک جذباتی اور غیر سفارتی انداز میں یائر نے میکرون کے خلاف "سکرو یو!” لکھا اور پھر فرانس کی زیر قبضہ زمینوں پر طنز کرتے ہوئے کہا:
"نیو کیلیڈونیا کی آزادی کو ہاں! فرانسیسی پولینیشیا کی آزادی کو ہاں! کورسیکا کی آزادی کو ہاں! باسک ملک کی آزادی کو ہاں! فرانسیسی گیانا کی آزادی کو ہاں! مغربی افریقہ میں فرانس کی نئی سامراجیت بند کرو!”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا کہ فرانس آئندہ چند ماہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کا باضابطہ اعلان ممکنہ طور پر جون میں اقوام متحدہ کی نیویارک کانفرنس کے دوران کیا جا سکتا ہے۔
فرانس 5 ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے میکرون نے کہا، "ہمیں تسلیم کرنے کی جانب بڑھنا ہے، اور ہم آئندہ مہینوں میں ایسا کریں گے۔” انہوں نے بتایا کہ یہ تسلیم بین الاقوامی سطح پر ایک ایسی کانفرنس میں مکمل کیا جا سکتا ہے، جس کی صدارت فرانس اور سعودی عرب مشترکہ طور پر کریں گے۔
انہوں نے کہا، "ہمارا ہدف ہے کہ جون میں سعودی عرب کے ساتھ ایک کانفرنس کی صدارت کریں، جہاں کئی فریقین کی جانب سے فلسطینی ریاست کو باہمی طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔”
دوسری جانب اسرائیل، وزیر اعظم نیتن یاہو کی قیادت میں، غزہ میں اپنا نسل کش جنگی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں گنجان آباد علاقوں، اسپتالوں، اور اہم شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس جنگ میں اب تک 50,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں
یائر نیتن یاہو کی متنازعہ سرگرمیاں اور بیانات پہلی بار سامنے نہیں آئے۔ ان کی اشتعال انگیز سوشل میڈیا سرگرمیوں کی وجہ سے وہ کئی بار شدید تنقید کی زد میں آ چکے ہیں، حتیٰ کہ خود اسرائیل کے اندر بھی۔
گزشتہ برسوں میں انہوں نے صحافیوں پر حملے کیے، اسرائیلی سپریم کورٹ کو بدعنوان قرار دیا، اور اپنے والد کے سیاسی مخالفین سے کھلے عام جھگڑا کیا۔ 2020 میں انہیں وہ ٹویٹ بھی حذف کرنا پڑی تھی، جس میں انہوں نے "گریٹر اسرائیل” کے تصور کی حمایت کی تھی، جس میں اردن کے کچھ علاقوں کو شامل کرنے کی بات کی گئی تھی۔
یائر پر سازشی نظریات پھیلانے، حکومت مخالف مظاہرین کا مذاق اڑانے، اور خواتین و اقلیتی گروہوں کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرنے جیسے الزامات بھی لگ چکے ہیں۔
صدر میکرون کے خلاف یائر کا حالیہ بیان ان کے اُن مسلسل اقدامات کا حصہ ہے، جن کی وجہ سے وہ ایک متنازع شخصیت بن چکے ہیں، باوجود اس کے کہ وہ اب بھی اپنے والد کے سیاسی دائرہ کار میں اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

