ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کا خفیہ منصوبہ: ایک سال میں دس لاکھ تارکین وطن کی...

ٹرمپ کا خفیہ منصوبہ: ایک سال میں دس لاکھ تارکین وطن کی ملک بدری — واشنگٹن پوسٹ
ٹ

واشنگٹن پوسٹ کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا خفیہ ہدف ایک سال کے اندر دس لاکھ تارکین وطن کو ملک بدر کرنا ہے، جو امریکی تاریخ میں ملک بدری کا سب سے بڑا ہدف ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، وائٹ ہاؤس کے اندرونی اجلاسوں میں یہ ہدف بارہا گفتگو کا مرکز رہا ہے۔ چار موجودہ اور سابق وفاقی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس منصوبے کو امیگریشن پالیسی میں "تاریخی کامیابی” کے طور پر پیش کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

یہ ہدف اس سے قبل کی بلند ترین سالانہ ملک بدری کی شرح — جو اوباما دور میں تقریباً چار لاکھ رہی — سے کہیں زیادہ ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ وسائل، عملے کی قلت، اور قانونی تقاضوں کے پیشِ نظر یہ منصوبہ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔

وسیع تناظر میں اقدامات

دو اعلیٰ حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس کے مشیر اسٹیفن ملر روزانہ محکمہ داخلہ (DHS) اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ اس ہدف کے حصول کے لیے عملی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ ایک ممکنہ طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان 14 لاکھ تارکین وطن کو ملک بدر کیا جائے جن کے خلاف عدالتوں سے حتمی حکمِ ملک بدری آ چکا ہے، لیکن جنہیں ان کے آبائی ممالک قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

انتظامیہ ان افراد کو تیسرے ممالک، جیسے میکسیکو، کوسٹاریکا اور پاناما، بھیجنے کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے — چاہے ان افراد کی وہاں شہریت نہ ہو۔ عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ "ہزاروں” تارکین وطن کو تیسرے ممالک منتقل کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس ہدف کی عوامی طور پر تصدیق نہیں کی، لیکن ترجمان کوش دیسائی نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ عوامی مینڈیٹ پر عمل کرتے ہوئے صدر بائیڈن کی امیگریشن پالیسی کی ناکامیوں کا ازالہ کرنا چاہتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین