ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیاوٹاوا میں غزہ کے حق میں بڑا مظاہرہ، اسرائیلی نسل کشی کی...

اوٹاوا میں غزہ کے حق میں بڑا مظاہرہ، اسرائیلی نسل کشی کی مذمت
ا

کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پارلیمنٹ ہل پر تقریباً 30 ہزار افراد نے غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کیا، مظاہرین نے کینیڈا اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ اسلحہ پابندی کا مطالبہ بھی کیا۔

اتوار کے روز ہزاروں کینیڈین شہری سڑکوں پر نکل آئے تاکہ غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا سکے۔ پارلیمنٹ ہل کے اطراف میں فلسطینی پرچموں کے ساتھ لبریز مظاہرے میں مظاہرین نے "اسرائیلی نسل کشی بند کرو” کے نعروں کے ساتھ سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔

مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر غزہ میں ہونے والی انسانی تباہی اور اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کی مذمت کی گئی تھی۔ فلسطینی یوتھ موومنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا: "آج 30,000 سے زائد افراد نے غزہ میں اپنے لوگوں کی نسل کشی رکوانے اور اسرائیل پر دو طرفہ اسلحہ پابندی کے لیے مارچ کیا۔ ہم روزانہ سڑکوں پر نکلیں گے جب تک فلسطین صہیونی دہشت گردی اور قبضے سے آزاد نہیں ہو جاتا۔”

مظاہرے کا ایک اہم مطالبہ یہ بھی تھا کہ اسرائیل کو اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی پرزہ جات کی فراہمی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

مظاہرین کینیڈا بھر سے آ کر پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہوئے اور حکومت کو واضح پیغام دیا کہ عوام اسرائیلی نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کارنی کے بیان پر اسرائیلی وزیراعظم کا ردعمل

یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک ریلی کے دوران اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نسل کشی کے تاثر پر اظہارِ خیال کیا تھا، جس پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کارنی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے بجائے "باربیرینز” یعنی حماس کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں نسل کشی کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جس میں اسرائیل پر 1948 کے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین