ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی ترقی دشمنوں کے لیے باعثِ اشتعال بن گئیں: آیت اللہ خامنہ...

ایرانی ترقی دشمنوں کے لیے باعثِ اشتعال بن گئیں: آیت اللہ خامنہ ای
ا

رہبرِ انقلاب اسلامی ایران، آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اتوار کے روز اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات میں مسلح افواج کو ہر شعبے میں ہمہ وقت تیار رہنے کی ہدایت کی، اور کہا کہ ملک کی ترقی دشمنوں کے لیے باعثِ غیظ و غضب بن چکی ہے۔

نئے ایرانی سال 1404 کے آغاز کے بعد اپنی پہلی اہم عسکری ملاقات میں، رہبر معظم نے ایران کی مسلح افواج کو قوم کے لیے "ڈھال اور پناہ” قرار دیا اور ان کی دفاعی صلاحیتوں کو "سخت اور نرم” دونوں پہلوؤں سے مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے فرمایا:
"یقین، ایمان، عزم، شجاعت اور خدا پر کامل بھروسا مسلح افواج میں مکمل طور پر موجود ہونا چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ افواج جو بظاہر طاقتور تھیں مگر ان روحانی اقدار سے خالی تھیں، آخرکار شکست سے دوچار ہوئیں۔”

آیت اللہ خامنہ ای نے تسلیم کیا کہ ملک کو خاص طور پر معاشی میدان میں چیلنجز کا سامنا ہے، جن کا حل نکالنا ضروری ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دشمنوں کی اصل برہمی ایران کی عوامی استقامت اور خود مختار اسلامی ریاست کے نظریاتی عزم سے ہے۔

*”اسلامی جمہوریہ کے دشمن ایرانی قوم کی پیش رفت پر غضبناک ہیں،” انہوں نے کہا۔
"انہیں ایک باوقار، صاحبِ شناخت اور خود مختار مسلمان ریاست کی استقامت برداشت نہیں ہو رہی۔”

ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور طے

علاحدہ طور پر، ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے بروز ہفتہ منعقد ہوگا۔ یہ مذاکرات عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے "تعمیراتی” پہلے دور کے بعد جاری رکھے جا رہے ہیں۔

عراقچی کے مطابق، ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان چار پیغامات کا تبادلہ عمانی ثالثوں کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے کہا:

"امریکی وفد نے معاہدے کی خواہش ظاہر کی، مگر اس کے لیے سنجیدہ ارادہ درکار ہے۔”

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف کا جائزہ لے گا اور مذاکرات کے ایجنڈے پر آئندہ دور میں توجہ مرکوز کی جائے گی۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ مذاکرات عمانی حکومت کے تجویز کردہ مقام پر منعقد ہوئے، جہاں ایرانی اور امریکی وفود علیحدہ کمروں میں موجود تھے۔

ایک عمانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات کا محور خطے میں کشیدگی میں کمی، قیدیوں کا تبادلہ، اور ایران کے جوہری پروگرام پر بعض پابندیوں کے بدلے محدود نوعیت کے معاہدے ہیں۔

عراقچی نے اس موقع پر عمان کے وزیرِ خارجہ کو ایران کے سرکاری مؤقف سے آگاہ کیا اور کہا کہ اگر امریکہ برابری کی بنیاد پر ایک منصفانہ معاہدہ چاہتا ہے تو موجودہ بات چیت کو سنجیدہ مذاکرات کی راہ دی جا سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے نزدیک یہ مذاکرات صرف جوہری مسئلے تک محدود ہیں۔

یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب خطے میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ کارروائی کی دھمکی دی ہے، جس کے جواب میں ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر دباؤ بڑھایا گیا تو وہ اقوامِ متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک سے نکال سکتا ہے۔ ایران نے باعزت سلوک اور باہمی احترام کی اپنی شرط کو دہرایا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین