بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم) نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کے بعد پیر کو ایک کثیر الجماعتی کانفرنس (ایم پی سی) بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر خواتین کارکنوں کی رہائی کے مطالبے کے لیے وڈھ سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کو کوئٹہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد بی این پی مینگل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس ایشو پر مزید سیاسی جماعتوں کو یکجا کرنے کے لیے ایم پی سی کی تشکیل کی جائے۔
بی این پی مینگل کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس بلوچستان کے مسائل اور خاص طور پر خواتین کارکنوں کی رہائی کے مطالبے کو اجاگر کرنے کے لیے بلائی جا رہی ہے۔ کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ بلوچستان کے حقوق اور مسائل کو قومی سطح پر اٹھایا جا سکے۔بی این پی (ایم) کے صدر سردار اختر مینگل نے دھرنے کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پارٹی ایک کثیرالجماعتی کانفرنس (ایم پی سی) دھرنے کے مقام پر منعقد کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اس کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت دی گئی ہے، جو بلوچستان کے سنگین مسائل، خاص طور پر خواتین سیاسی کارکنوں کی رہائی کے مطالبات پر تبادلہ خیال کرے گی۔
اختر مینگل نے کہا کہ ایم پی سی حکومت کی جانب سے صوبے کے مسائل پر عدم سنجیدگی کے جواب میں مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کرے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بی این پی (ایم) کا بنیادی مطالبہ مہرنگ بلوچ سمیت تمام گرفتار خواتین کارکنوں کی فوری رہائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ان کا مطالبہ مان لیا ہوتا تو دھرنا ختم کر کے واپس آ جاتے۔
اختر مینگل نے حکومت کے ساتھ تین دور کی بات چیت کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات بے معنی ثابت ہوئے ہیں اور حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے ریاست پر الزام عائد کیا کہ وہ بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور دعویٰ کیا کہ صوبے کو پانچویں فوجی آپریشن کا سامنا ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ‘ربر اسٹیمپ’ قرار دیا، جہاں خواتین قانون سازوں کو اپنے بیٹوں اور شوہروں کے اغوا کے ذریعے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اختر مینگل نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کو بلوچستان کے عوام سے کوئی حقیقی سروکار نہیں ہے اور وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر صوبے کے وسائل لوٹنے اور عوامی مینڈیٹ چوری کرنے میں ملوث ہیں۔
انہوں نے میڈیا رپورٹس کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے بیک ڈور چینلز کے ذریعے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو مطالبات پیش کیے تھے۔مسلم لیگ (ن) بلوچستان کی قیادت نے بی این پی (ایم) اور حکومت کے درمیان مسائل کے حل کے لیے سیاسی بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج اور شاہراہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے مسائل کا حل نہیں نکالا جا سکتا، بلکہ یہ مسائل بی این پی (ایم) اور حکومت کے درمیان مذاکرات سے حل ہونے چاہئیں۔
مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم کھوسہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کے حل کا صحیح طریقہ بات چیت ہے، اور احتجاج کے ذریعے غیر قانونی مطالبات کو آگے بڑھانا حکومت کو مجبور کرنے کا مناسب طریقہ نہیں ہے۔ انہوں نے بی این پی (ایم) کے سربراہ سردار اختر مینگل سے مطالبہ کیا کہ وہ دھرنے کے حوالے سے سیاسی مذاکرات شروع کریں۔
میر سلیم کھوسہ نے یہ بھی کہا کہ اگر سڑکوں پر احتجاج سے عدالتی مسائل حل ہونے ہیں تو ہم عدالتوں کو بھی بند کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ سردار اختر مینگل نے دہشت گرد حملوں کے متاثرین کے حق میں کیوں نہیں آواز اٹھائی۔ انہوں نے بی این پی (ایم) پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے احتجاج کو جائز قرار دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میر سلیم کھوسہ نے بی این پی (ایم) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کی سیاسی سوچ میں کمی ہے اور اب وہ صرف ایک یونین کونسل کی سیاست تک محدود ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی این پی (ایم) نے سابق وزیر اعلیٰ جام کمال کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن اس کے بعد کے دور میں کوئی بامعنی ترقیاتی منصوبے یا پالیسی تجویز نہیں کی گئی۔
اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی رہنما راحیلہ درانی نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر سردار اختر مینگل سے رابطہ کیا تھا تاکہ وہ خواتین کی حیثیت سے مثبت کردار ادا کریں، لیکن اختر مینگل نے دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جب تک ان کے تمام مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ پاکستان کے لیے کھڑی رہی ہے اور قوم پرست گروپوں کی حمایت کرتی ہے۔
یہ بیانات بی این پی (ایم) کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں جاری سیاسی تناؤ اور مختلف جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ پرامن سیاست اور بھائی چارے کی اقدار کو فروغ دیں گے اور نفرت کی سیاست اور کھوکھلے نعروں کو مسترد کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کوئٹہ ڈویژن کے صدر سردار خیر محمد ترین نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ مذاکرات اور پرامن رابطوں پر یقین رکھتی ہے اور پارٹی کا مؤقف یہ ہے کہ اقتدار کا حقیقی منبع عوام ہیں۔ پارٹی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ پرامن طریقوں کو ترجیح دیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سیاست میں نفرت کی جگہ نہ ہو۔

